صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 108 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 108

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۰۸ ۳۴- كتاب البيوع کی طرف عنوان باب میں اشارہ کیا گیا ہے؟ جن کی سند کے متعلق امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ مطمئن نہیں، گومفہوماً وہ درست ہوں۔کیونکہ مستند احادیث سے ان کی اس حد تک تصدیق ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریق سے قطعا منع فرمایا ہے۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ اس باب میں احتکار کی تعریف کرنا اور یہ بتانا مقصود ہے کہ خوردنی اشیاء کا محض گھر میں لے جانا احتکار نہیں کہلاتا بلکہ اس غرض سے رو کے رکھنا احتکار کی تعریف میں آتا ہے کہ کل کو وہ مہنگی ہونے پر پہنچی جائیں ور نہ لوگوں کو قبضہ کرنے اور گھروں کو لے جانے کی اجازت ہی نہ ہوتی۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۴۰) باب کی پہلی روایت به میں صراحت ہے کہ لوگوں کو اگر وہ غلہ جات اپنے ٹھکانوں پر نہ لے جاتے تو اُن کو سزا دی جاتی۔اس سے ظاہر ہے کہ محض گھروں میں انہیں محفوظ رکھنا احتکار نہیں۔يَشْتَرُونَ الطَّعَامَ مُجَازَفَةً : جُذَافًا کے معنے بغیر وزن کئے یونہی اندازے پر پہنچنا یا خریدنا جسے اناشا کہتے ہیں۔یہ سودا بازی بھی جوئے کی قسم ہے جو اسلامی منڈیوں میں ممنوع ہے۔شارع اسلام علیہ الصلواۃ والسلام نے بائع اور مشتری دونوں کے لئے ادنی سا نقصان بھی روا نہیں رکھا۔مُجَازَفَةً کے معنے بغیر سوچے سمجھے بات کرنا، اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا تا وقتیکہ منڈی کا بھاؤ معین نہ ہو جائے۔غلہ جات وغیرہ کو صرف گھروں میں رکھنا احتکار نہیں کہلائے گا۔احتکار میں یہ بھی شامل ہے کہ غلہ جات کا نرخ معین ہونے پر سارا غلہ اس غرض سے خرید لیا جائے کہ دوسرا اُسے نہ لے سکے۔یہ طریق بھی ممنوع ہے۔فَلَا يَبعُهُ حَتَّى يَقْبضَهُ : دوسری روایت میں بتایا ہے کہ غلہ کی فروخت اُس وقت تک منع ہے جب تک کہ وہ پورے طور پر قبضہ میں نہ لے لیا جائے۔بائع نے گندم کا سودا ایک مقررہ قیمت پر طے کیا اور قیمت خریدار سے وصول کر کے یہ فیصلہ کیا کہ گندم دوماہ کے بعد دی جائے گی اور پھر وہ خریدار کسی دوسرے کے پاس زائد قیمت پر اسی شرط کے ساتھ فروخت کرے تو یہ طریق بھی ممنوع ہے کہ وہ سود کی شق میں آتا ہے۔در حقیقت ایسی خرید و فروخت کسی جنس موجود پر نہیں بلکہ روپے کا لین دین روپے سے ہے۔مثلاً پچاس روپے کے عوض ساٹھ لے لئے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا اور حکم دیا کہ بیچنے سے پہلے جنس پر پورا قبضہ حاصل کرنا ضروری ہے۔تیسری روایت بھی اسی امر کی تائید میں ہے۔الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ : چوتھی روایت میں ایک جنس کا اُسی جنس سے دم نقد تبادلے کا ذکر ہے جو جائز ہے بشرطیکہ اُدھار نہ ہو۔اگر یہ مبادلہ کم و بیش مقدار میں اُدھار پر ہوگا تو یہ صورت بھی سود کی سی ہوگی جو جائز نہیں۔( اس تعلق میں باب ۷۴ ۷۵ ۷۶ کی تشریح بھی دیکھئے ) چوتھی روایت کا تعلق عنوان باب سے بلحاظ مبادلہ اشیاء ہے۔یعنی مذکورہ صورتوں میں کونسی صورت مبادلہ جائز ہے اور کونسی نا جائز۔لفظ صرف کے معنی چاندی، سونے اور درہم و دینار کا مبادلہ ہیں جو بلحاظ کمی بیشی نرخ جائز ہے مگر ایسا مبادلہ اجناس خوردنی میں جائز نہیں بلکہ اس میں سے ہر