صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 105
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۰۵ ۳۴- كتاب البيوع صلى الله تشريح : بَرَكَةُ صَاعِ النَّبِيِّ لا وَمُده: اس باب کا خلق بھی سابقہ باب کے مضمون ہی سے ہے۔ حضرت عائشہ کی محولہ بالا روایت کے لیے کتاب فضائل المدينة باب ۲ روایت نمبر ۱۸۸۹ دیکھئے۔ ان روایات سے ظاہر ہے کہ اہل مدینہ کے مد اور صاع میں جو نمایاں برکت ہوئی ، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبولیت دعا کا نتیجہ تھی۔ بَاب ٤ ٥ : مَا يُذْكَرُ فِي بَيْعِ الطَّعَامِ وَالْحُكْرَةِ اناج کی خرید و فروخت اور اس کی فروخت روک رکھنے کے بارے میں جو روایتیں مذکور ہیں ۲۱۳۱: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ ۲۱۳۱: اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ولید بن مسلم نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے اوزاعی الْأَوْزَاعِي عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ہے، اوزاعی نے زہری سے، زہری نے سالم سے، أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ الَّذِيْنَ سالم نے اپنے باپ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے اُن لوگوں کو يَشْتَرُونَ الطَّعَامَ مُجَازَفَةً يُضْرَبُوْنَ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ دیکھا ہے جو اناج یونہی بغیر ماپ تول کے خریدتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں اس وَسَلَّمَ أَنْ تَبِيْعُوهُ حَتَّى يُؤْوُوْهُ إِلَى لئے پیا جاتا کہ اس اناج کو اپنے اپنے ٹھکانوں پر لے جا کر محفوظ کر لینے سے پہلے کیوں بیچتے ہیں۔ رِحَالِهِمْ۔ اطرافه ۲۱۲۳، ٢۱۳۷، ٢١٦٦، ٢١٦٧، ٦٨٥٢۔ ۲۱۳۲: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۲۱۳۲ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن طاؤس سے، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی أَنْ تَبِيعَ الرَّجُلُ طَعَامًا حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ شخص اناج بچے تا وقتیکہ اس پر پورا قبضہ نہ کرلے۔ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ كَيْفَ ذَاكَ قَالَ ذَاكَ میں نے حضرت ابن عباس سے کہا: یہ کیسے؟ انہوں نے دَرَاهِمُ بِدَرَاهِمَ وَالطَّعَامُ مُرْجَاً ۔ قَالَ کہا: یہ روپوں کو روپوں کے بدلہ بیچنا ہے، کیونکہ غلہ تو