صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 103 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 103

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۰ بَاب ٥٢ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَيْلِ ماپنا جو پسند یدہ ہے ۳۴- كتاب البيوع ۲۱۲۸: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ مُوْسَی ۲۱۲۸: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ولید حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ ثَوْرِ عَنْ خَالِدِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ثور ( بن یزید دمشقی ) سے، مَعْدَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ثور نے خالد بن معدان سے، خالد نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے وَسَلَّمَ قَالَ كِيْلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكُ في صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اپنا اناج ماپ لیا کر وہ تمہیں برکت دی جائے گی۔لَكُمْ۔تشریح: مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَيْلِ : خرید و فروخت میں پوری مقدار قبضہ میں لینے سے بیچ صحیح قرار پاتی ہے (دیکھئے باب ۵۵) یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ پورا اندازہ صرف تجارتی کاروبار یا قرضہ کی ادائیگی ہی میں نہیں بلکہ روز مرہ کی خوراک میں بھی مد نظر ہے۔اس بارہ میں کئی روایتیں ایسی بھی منقول ہیں، جن سے پایا جاتا ہے کہ خوراک کا ماپنا تو لنا باعث برکت نہیں ہوتا۔ان میں سے ایک روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہے کہ میرے پاس کچھ جو تھے جن میں سے میں استعمال کرتی تھی یہاں تک کہ اس پر ایک عرصہ گزر گیا۔میں نے اسے ماپ لیا تو وہ ختم ہو گئے۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۰۹۷) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اناج جب تک بغیر انداز ہ استعمال ہوتا رہا، برکت رہی اور جب ما پنا شروع کیا، وہ جلدی ختم ہو گیا۔امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں ایک لطیف رائے کا اظہار کیا ہے۔اُن کے نزدیک اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ محض ماپنے سے بے برکتی ہوئی بلکہ حضرت عائشہ کا مقصد چونکہ محض اندازہ کرنا تھا، اس لئے جو کچھ تھوڑا بہت باقی تھا، اس کو اپنے وقت پر ختم ہونا ہی تھا جو ختم ہو گیا۔یہ عرصہ سابقہ عرصہ سے کم تھا۔اس لئے جلدی ختم ہونے کا احساس ہوا۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۴۳۷) غرض اگر آنحضرت علہ کی اطاعت کی نیت روز مرہ کے کاموں میں شامل رہے تو یہ نیت یقیناً برکت کا موجب ہوگی محض ماپنے تو لنے پر برکت کا انحصار نہیں۔ابن حبان کی محولہ بالا روایت کے یہ الفاظ ہیں: فَمَا زِلْنَا نَاكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَالَتُهُ الْجَارِيَةُ فَلَمْ يَلْبَتُ أَنْ فَنِيَ وَلَوْلَمْ تَكِلْهُ لَرَجَوْتُ أَنْ يَبْقَى اَكْثَرَ۔(صحيح ابن حبان، کتاب التاريخ، باب صفته وأخباره، ذكر ما بارك الله فى اليسير من بركة المصطفى، روایت نمبر ۶۴۱۵، جز ۱۴۶ صفحه ۳۲۵) یعنی ہم اناج سے کھاتے رہے یہاں تک کہ کنیز سے ماپنے لگی اور وہ جلدی ختم ہو گیا۔اگر وہ نہ مانی تو مجھے امید تھی کہ وہ زیادہ دیر تک رہتا۔ان الفاظ سے جو غلط مفہوم سمجھا گیا ہے، اس کی اصلاح مستند حدیث کی بناء پر اس باب میں مدنظر ہے۔آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے یہ الفاظ ہیں: كَيْلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكَ لَكُمْ۔اس ارشاد کی اطاعت برکت کا موجب ہوگی۔