صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 102
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۰۲ ۳۴- كتاب البيوع وزن کرو ۔ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ (الأنعام: ۱۵۳) { اور سوائے ایسے طریق کے جو بہت اچھا ہو یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے اور ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورے کیا کرو۔ یتامی کے حقوق کی نگہداشت رکھنے کے بارے میں تاکید ہے اور ہدایت ہے کہ انہیں اُن کا حق پورا پورا دیا جائے اور انصاف سے ان کے ساتھ سلوک کیا جائے۔ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ الرحمن : ۸ تا ۱۰) { اور آسمان کی کیا ہی شان ہے۔ اس نے اسے رفعت بخشی اور نمونہ عدل بنایا۔ تا کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو۔ اور وزن کو انصاف کے ساتھ قائم کرو اور تول میں کوئی کمی نہ کرو ۔ اس آیت میں نظام آسمانی کے قیام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس میں صحیح صحیح توازن پایا جاتا ہے۔ یہ ارشاد ہے کہ تم بھی افراط و تفریط سے کام نہ لو۔ اكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا : عنوانِ باب میں مذکورہ بالا آیت کا حوالہ دینے کے علاوہ ارشاد نبوی کے دو حوالے ہیں۔ پہلا نسائی اور ابن حبان نے بسند طارق بن عبد الله محار بی نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے پاس ایک سرخ اونٹ تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ دو کپڑوں میں ملبوس تھا۔ اس نے پوچھا کہ آیا یہ اونٹ فروخت کیا جا سکتا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ قیمت دریافت کرنے پر ہم نے بتایا کہ اتنے صاع کھجوروں کے عوض تو اُس نے کہا: بہت اچھا میں نے لے لیا اور یہ کہہ کر اونٹ کی نکیل پکڑی اور چل دیا اور شام کے قریب لوٹا اور کہنے لگا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایلچی ہوں۔ یہ کھجوریں ہیں ، کھاؤ یہاں تک کہ سیر ہو جاؤ۔ وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا ۔ اور ماپ کرلے لو؛ یہاں تک کہ اپنا حق پورا کر لو۔ (صحيح ابن حبان، كتاب التاريخ، باب كتب النبي، ذكر ☆ مقاساة المصـ المصطفى لما كان يقاسي من قومه في إظهار الإسلام ، روایت نمبر ۶۵۶۲ جز ۱۴۰ صفحه ۵۱۸) إِذَا بِعْتَ فَكِلُ وَإِذَا ابْتَعْتَ فَاكْتَلُ : دوسرا حوالہ حضرت عثمان کی روایت کا ہے جو دار قطنی ، مسند احمد بن حنبل اور ابن ماجہ میں منقول ہے۔ دونوں حوالے سورۃ المطففین کی آیت میں وارد شدہ لفظ كَالُوهُمُ اور اكْتَالُوا کی وضاحت کی غرض سے دیئے گئے ہیں۔ اہل لغت میں سے بعض نے گالُوا اور وَزَنُوا پر وقفہ کر کے ھم کی ضمیر علیحدہ پڑھی ہے اور اسے يُخْسِرُونَ کا مبتداء قرار دیا ہے۔ اس لئے ان کے خیال کی اصلاح کی غرض سے كَالُوا لَهُمْ اور وَزَنُوا لَهُمْ کے الفاظ نمایاں کئے ہیں اور بتایا ہے کہ ھم مفعول ہے، كَالُوا اور وَزَنُوا کا۔ ابو عبیدہ اور فراء دونوں چوٹی کے علمائے لغت میں سے ہیں، وہ بھی اسی امر کی تائید میں ہیں اور امام موصوف نے يَسْمَعُونَكُمْ اور يَسْمَعُونَ لَهُمُ سے دلیل دی ہے کہ ایسا حذف دوسرے الفاظ میں بھی جائز ہے۔ علاوہ ازیں گالوا اور اکتالُوا کے درمیان ایک اور فرق بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بائع جب دے تو ماپ کر دے اور مشتری جب لے تو ماپ کرلے۔ مذکورہ حوالوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے : فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۴۳۵، ۴۳۶ - عمدۃ القاری جزءا صفحه ۲۴۴، ۲۴۵۔ (ابن ماجه، كتاب التجارات، باب بيع المجازفة) (مسند احمد بن حنبل، جزء اول صفحہ ۶۲ ، ۷۵ ) (سنن الدارقطنی، کتاب البیوع، روایت نمبر ۲۳ جزء ۳۰ صفحه ۸)