صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 101 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 101

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع کی جاتی ہے۔لیکن مطلوبہ چیزیں صحیح حالت میں نہیں دی جاتیں۔اس طرح مشتری کے حق میں کمی کی جاتی ہے۔وہ آیات یہ ہیں: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ۔اَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَّبْعُوثُونَ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ) (المطففين: ۲ تا ۷) یعنی سودا سلف میں وزن کم کرنے والوں کے لئے افسوس ( کہ اُن کا انجام بد ہو گا ) یہ وہ ہیں جو لوگوں سے جب تول کر لیتے ہیں تو خوب تول کر پورا کا پورا لیتے ہیں اور جب اُن کو تول کر یا وزن کر کے دیتے ہیں تو پھر انہیں کم دیتے ہیں۔کیا یہ لوگ یقین نہیں کرتے کہ وہ ( زندہ کر کے ) اُٹھائے جائیں گے، اس عظیم الشان وقت کا فیصلہ دیکھنے ) کے لئے جس وقت تمام لوگ سب جہانوں کے رب ( کا فیصلہ سننے ) کے لئے کھڑے ہوں گے۔ان آیات کی لطیف اور مبسوط شرح کے لئے دیکھیں تفسیر کبیر مصنفہ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ، جلد ہشتم تفسير سورة المطففين بیع و شراء اور لین دین میں ماپ تول سے متعلق کئی احکام قرآن مجید میں مختلف مقامات پر وارد ہوئے ہیں۔مثلاً سورۃ اعراف میں مدین قوم کا ذکر ہے جو تاجر پیشہ تھی اور اپنے تجارتی کاروبار میں فریب دہی سے کام لیتی تھی۔ان کی اصلاح کے لئے خدا کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام بھیجے گئے اور انہوں نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: قَدْ جَاءَ تَكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ) (الأعراف: ۸۲) {۔۔یقینا تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی کھلی نشانی آچکی ہے۔پس ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فسادنہ پھیلایا کرو۔یہ تمہارے لیے بہتر تھا اگر تم ایمان لانے والے ہوتے۔یہ ارشاد بھی جامع ہے۔پہلے حصے میں ماپ اور وزن پورا کرنے کا حکم ہے اور دوسرے حصے میں منع کیا گیا ہے کہ لوگوں کو خرید و فروخت کی اشیاء ناقص نہ دو، نہ مقدار میں نہ نوعیت کے لحاظ سے۔قرآن مجید کے احکام بیع وشراء کے بارہ میں ایک مکمل ضابطہ ہیں۔اس تعلق میں مندرجہ ذیل آیات بھی ملاحظہ ہوں: وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَى آرَبِّكُمْ بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍه وَيُقَومِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمُ وَلَا تَعْثَوُا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ بَقِيتُ اللهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ ، وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ (هود: ۸۵-۸۷) { اور ماپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔یقینا میں تمہیں دولت مند پاتا ہوں اور میں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔اور اے میری قوم! ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں انہیں کم کر کے نہ دیا کرو اور زمین میں مفسد بنتے ہوئے بدامنی نہ پھیلاؤ۔اللہ کی طرف سے جو ( تجارت میں ) بچتا ہے، وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم (سچے) مومن ہو اور میں تم پر نگران نہیں۔} وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تأويلاه (بنی اسرائیل: ۳۶) { اور جب تم ماپ کرو تو پورا اماپ کرو اور سیدھی ڈنڈی سے تو لو۔یہ بات بہت بہتر اور انجام کا رسب سے اچھی ہے۔} وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیم کے معنی ہیں : معیاری ماپ تول کے ذریعے سے صحیح صحیح