صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 100 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 100

صحيح البخاری جلدم (** ۳۴- كتاب البيوع ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَيَّ کھجوروں کی ایک ایک قسم کو جدا کرو۔عجوہ کھجور کو علیحدہ فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ اور عذق زید کھجور کو علیحدہ۔پھر مجھے پیغام بھیجنا۔چنانچہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَجَلَسَ میں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا عَلَى أَعْلَاهُ أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ كِلْ بھیجا تو آپ تشریف لائے تو آپ کھجوروں کے ڈھیر بر پر یا ان کے درمیان بیٹھ گئے۔پھر آپ نے لِلْقَوْمِ فَكِلْتُهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمُ الَّذِي فرمایا: ان لوگوں کو ماپ کر دو۔چنانچہ میں نے ان کو لَهُمْ وَبَقِيَ تَمْرِي كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ ،اپ کر دیا ؟ یہاں تک کہ جو ان کا حق تھا، میں نے ان شَيْءٌ وَقَالَ فِرَاسٌ عَنِ الشَّعْبِ کو پورا دے دیا اور میری کھجور میں بیچ رہیں۔ایسا حَدَّثَنِي جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ معلوم ہوتا تھا کہ ان میں کچھ کم نہیں ہوئی۔اور فراس وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يَكِيْلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّاهُ نے شعمی سے یوں نقل کی ہے کہ حضرت جابر نے نبی وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُدَّ لَهُ کہ وہ ماپ کر دیتے رہے، یہاں تک کہ انہیں ادا کر دیا۔ہشام نے بسند وہب حضرت جابر سے روایت یوں نقل کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لئے کھجور سے کاٹو اور اس کو پورا دے دو۔فَأَوْفِ لَهُ۔اطرافه ٢٣٩٥، ۲۳۹٦، ۲۰۰۵، ۲۶۰۱، ۲۷۰۹، ۲۷۸۱، ٣٥۸۰ ٤٠٥٣، ٦٢٥٠۔تشریح الْكَيْلُ عَلَى الْبَائِعِ وَالْمُعْطِى: شارحین نے الگیل سے مراد مؤونَةُ الْكَيْل لی ہے۔یعنی ماپ تول کا محنتانہ۔( فتح الباری جزء بہ صفحہ ۴۳۵) تخیل کے معنی مقدار معین کرنا ماپ سے یا تول سے۔کہتے ہیں: كِلْتُ الدَّرَاهِمَ أَى وَزَنَتُهَا یعنی میں نے درہم کا وزن کیا۔عنوانِ باب میں مندرجہ حوالہ جات اور اس کے تحت منقولہ روایات سے لفظ کیل کا بھی مفہوم معین کرنا اور بتانا مقصود ہے کہ اندازہ کرنے کا محنتانہ بائع یا قارض پر ہے۔کیونکہ معین مقدار میں کمی معلوم ہونے پر بائع ذمہ دار ہوتا ہے کہ اسے پورا کرے۔قرآن مجید کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ سورۃ المطففین کی ہے۔جس کا موضوع ہی ماپ تول کی کمی اور اس کا بد انجام ہے۔تخفیف کے معنی ہیں کم کرنا، بخل اور کنجوسی سے کام لینا تر از وکو مارنا، ناقص دودھ گھی چینی وغیرہ خوردنی اشیاء اور گیلی لکڑی فروخت کرنا۔اس قسم کی تمام باتیں تخفیف کے مفہوم میں شامل ہیں کہ ان کی قیمت تو نرخ کے مطابق حمد عمدۃ القاری میں اس جگہ عِذْقَ زَيْد“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۴۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔