صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 97 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 97

صحيح البخاری جلد ۴ تشریح: ۹۷ ۳۴- كتاب البيوع كَرَاهِيَةُ السَّخَب فِي الْأَسْوَاقِ: اس باب کا عنوان بھی سابقہ باب کے مضمون سے متعلق ہے۔بازار فی ذاتہ جائے شر نہیں؛ جس کی وجہ سے وہاں جانے یا کاروبار کرنے کی ممانعت ہو بلکہ خلاف شریعت و تہذیب امور ممنوع ہیں۔جن سے بازار اور منڈیوں کو محفوظ رکھا جائے اور یہی باتیں انہیں بدنام کرتی اور قابل مذمت بناتی ہیں۔شریعت اسلامیہ بازاروں میں شور و غوغا اور لڑائی جھگڑا کرنا نا پسند کرتی ہے اور ان باتوں کے مکروہ ہونے کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پاکیزہ صفات سے استدلال کیا گیا ہے جو آپ کی نسبت تو رات میں بطور پیشگوئی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ وہ موعود نبی بازار میں آواز اونچی نہ کرے گا۔اس بارہ میں یسعیاہ نبی علیہ السلام کی پیشگوئی کے الفاظ ہیں :- دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں۔میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے۔میں نے اپنی روح اُس پر ڈالی۔وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔وہ نہ چلائے گا اور نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اُس کی آواز سنائی دے گی۔وہ مسلے ہوئے سر کنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائے گا۔وہ راستی سے عدالت کرے گا۔وہ ماندہ نہ ہوگا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرلے۔جزیرے اُس کی شریعت کا انتظار کریں گے۔“ (یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۱ تا ۵) اس پیشگوئی کا ذکر ملا کی نبی کی کتاب میں یوں ہے :- ”دیکھو میں اپنے رسول کو بھیجوں گا اور وہ میرے آگے راہ درست کرے گا اور خداوند جس کے تم طالب ہو، نا گہان اپنی ہیکل میں آ موجود ہوگا۔ہاں عہد کا رسول جس کے تم آرزومند ہو آئے گا۔۔۔(ملا کی باب ۳ آیت ۱) اس سے پہلے باب میں اسی نبی نے واضح طور پر بنی اسرائیل کی بابت یہ اعلان کیا ہے کہ چونکہ بنی اسرائیل نے اللہ کی تمجید کو لوظ نہیں رکھا، وہ ملعون ہو چکے ہیں کیونکہ وہ راہ سے منحرف ہو چکے اور شریعت میں بہتوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئے۔(ملا کی باب ۲ آیت ۱ تا ۹) یہی عہد کا وہ رسول ہے جس کی پیشگوئی کا ذکر مرقس میں بایں الفاظ ہے: "جیسا یسعیاہ نبی کی کتاب میں لکھا ہے کہ دیکھ میں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیری راہ تیار کرے گا۔بیابان میں پکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خداوند کی راہ تیار 66 کرو۔اُس کے راستے سیدھے بناؤ “ (مرقس باب ۱ آیت ۳۲) اسی عہد کے رسول کی بشارت جیسے حضرت یسعیاہ علیہ السلام نے دی ، حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دی اور اس موعود کا نام روح حق رکھا اور بتایا کہ وہ ساری سچائی بیان کرے گا۔یہی وہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کا حوالہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت (نمبر ۲۱۲۵) میں دیا ہے۔