صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 98
صحيح البخاری جلدم ۹۸ ۳۴- كتاب البيوع یہ پیشگوئی پوری تفصیل رکھتی ہے، دعوت توحید اور بشارت وانذار کی ؛ جس کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات سے ہے اور اس میں کھلے الفاظ میں صراحت ہے کہ اس کا ظہور صحرائے عرب میں ہوگا۔جہاں سلعہ (مدینہ کا پہاڑ ) اور قیدار (بنی اسماعیل) کی بستیاں ہیں۔بتوں کی پوجا کا استیصال اور خدائے وحدہ لا شریک کی سراسر حمد وستائش کا مذکورہ بالا وصف بھی بیان ہوا ہے کہ بازاروں میں وہ شور نہ کرے گا اور اس میں مستقبل کی عظیم الشان پیشگوئی کا بھی ذکر ہے کہ جزائر کے رہنے والے اُس کی شریعت کے انتظار میں ہوں گے اور یہ وہ پیشگوئی ہے جس کا ذکر اسلامی روایات میں طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا (كتاب بدء الخلق ، روایت نمبر ۳۱۹۹) کے الفاظ سے وارد ہوا ہے۔یعنی سورج مغرب سے طلوع کرے گا جہاں مشار الیہ جزائر واقع ہیں۔حدیث زیر باب میں عہد نامہ قدیم کی اسی پیشگوئی کی تطبیق قرآن مجید کی اس آیت سے دی گئی ہے: إِنَّا اَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَّدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا ( یقینا ہم نے تجھے ایک شاہد اور ایک مبشر اور ایک نذیر کے طور پر بھیجا ہے اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے ہلانے والے اور ایک منور کر دینے والے سورج کے طور پر } (الأحزاب: ۴۶ - ۴۷) ان آیات میں اس داعی الی اللہ کی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا، نور کی طرف نکالنے والا ، اپنے ساتھیوں کو بہت بڑے فضل کی بشارت دینے والا اور نہ ماننے والوں کے لئے نذیر بین ہوگا اور قرآن مجید کی یہ پیشگوئی مفہوم وہی پیشگوئی ہے جس کا ذکر یسعیاہ و غیرہ انبیاء کی کتابوں میں موجود ہے۔یہ پیشگوئی من وعن جس شان سے پوری ہوئی ، وہ ظاہر وباہر ہے اور ناقابل انکار تاریخ عالم کا مشہور و معروف واقعہ ہے۔جزائر سے تعلق رکھنے والا حصہ ابھی باقی ہے جس کا طلوع شمس کی پیشگوئی میں ہم استقبال کرنے والے ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے: فصل الخطاب جزء دوم صفحه ۲۶۸ تا ۲۸۴، دیباچهتفسیر القرآن- بائبل میں قرآن مجید کے نزول اور آنحضرت علی کے ظہور کے متعلق پیشگوئیاں - صفحہ ۶۵ تا ۱۰۳ محولہ بالا پیشگوئی کے الفاظ سے ان آداب اسلامیہ کا استنباط کیا گیا ہے، جن کا ایک تعلق بازار سے ہے اور بتایا ہے کہ مسلمان کا کردار سیرت نبویہ کے سانچہ میں ڈھلنا چاہیے۔باب ٥١: الْكَيْلُ عَلَى الْبَائِعِ وَالْمُعْطِي ماپ تول ( کی محنت مشقت کا معاوضہ ) نیچے والے اور دینے والے پر ہے وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا كَالُوهُمْ اَو اور اللہ عزوجل کا قول: یعنی جب اُن کو ماپ یا تول وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ ) (المطففين: (٤) کر دیتے ہیں تو وہ انہیں کم دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا يَعْنِي كَالُوْا لَهُمْ أَوَ وَزَنُوْا لَهُمْ كَقَوْلِهِ قول ویسا ہی ہے جیسے فرمایا: يَسْمَعُونَكُمْ۔اور معنے یہ يَسْمَعُونَكُمْ (الشعراء:۷۳) يَسْمَعُونَ ہیں کہ يَسْمَعُونَ لَكُمْ - { وہ تمہاری پکار سنتے ہیں}