صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 96 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 96

صحيح البخاري - جلد ۴ १५ ۳۴- كتاب البيوع عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ قَالَ أَجَلْ میں آئی ہے۔ انہوں نے میری درخواست کو منظور کرتے وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوْفٌ فِي التَّوْرَاةِ ہوئے کہا: بخدا آپ کی بعض صفات تو رات میں وہی بِبَعْضٍ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ يَأَيُّهَا مذکور ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے: ( مثلا ) اے نبی ہم نے تجھے بطور شاہد اور مبشر اور نذیر بھیجا ہے (اس کے النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْتُكَ شَاهِدًا علاوہ اس کی یہ صفات بھی مذکور ہیں کہ ) اور اُمیوں کیلئے وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (الأحزاب: ٤٦) بطور تعویذ کے بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے۔ وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُوْلِي میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ وہ بد خلق درشت کلام نہیں اور سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٌ وَلَا نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور مچانے والا اور نہ بدی غَلِيْظٍ وَلَا سَخَّابِ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا کا بدلہ بدی سے دیتا ہے، بلکہ معاف کرتا اور پردہ پوشی يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو کرتا ہے۔ اللہ تعالی اس وقت تک اسے وفات نہیں دے گا جب تک کہ وہ ٹیڑھی قوم سیدھی نہ کر دے یعنی وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ لوگ یہ اقرار نہ کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُوْلُوْا لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ تعالیٰ کی شریعت) کے ذریعہ سے اندھی آنکھوں کو الله وَيُفْتَحُ بِهَا أَعْيُنٌ عُمْيٌ وَ آذَانٌ بینا اور بہرے کانوں کو شنوا اور غلافوں میں لیٹے ہوئے صُمَّ وَقُلُوْبٌ غُلْفٌ۔ تَابَعَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ دلوں کو کھول دے گا۔ عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہلال ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ هِلَالٍ۔ { وَقَالَ سے روایت کرتے ہوئے فلیح کی طرح یہ حدیث بیان سَعِيدٌ عَنْ هِلَالٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ کی اور سعید بن ابی ہلال ) نے بسند عطاء ہلال سے سَلَامٍ غُلْفٌ كُلُّ شَيْءٍ فِي غِلَافٍ، یوں نقل کی کہ ابن سلام سے مروی ہے۔ خُلف کے سَيْفٌ أَغْلَفُ وَقَوْسٌ غَلْفَاءُ وَرَجُلٌ معنی ہیں: ہر وہ شئے جو غلاف میں ہو۔ چنانچہ جب تلوار میان میں ہو تو کہتے ہیں: سَيْفٌ أَغْلَفُ اور أَغْلَفُ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُوْنًا ۔ کمان جب پردے میں ہو تو کہتے ہیں : قَوسٌ غَلْفَاءُ طرفه ٤٨٣٨ اسی طرح کہتے ہیں: رَجُلٌ أَغْلَفُ۔ وہ مرد جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔ ل عمدۃ القاری میں الفاظ وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنَا عُمُيًا وَ آذَا نَا صُمَّا وَقُلُوبًا غُلْفًا ہیں (عمدة القاري جزء اصفحہ ۲۴۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ الفاظ وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ هِلَالٍ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء گھا شی صفحہ ۴۳۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔