صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 95 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 95

صحيح البخاری جلدم ۹۵ ۳۴- كتاب البيوع موجب ہوئیں۔سو سال سے زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ ان کی امارت کا محل گر کر خس و خاشاک ہو گیا۔اس روایت کے آخر میں ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ آیا ہے۔یعنی پھر وہ اپنی نیتوں کے مطابق اُٹھائے جائیں گے۔یعنی قومی تباہی جو ہمہ گیر عذاب الہی کی صورت میں ہوئی ہے، اس کی گرفت میں شریروں کے ساتھ بعض نیک لوگ بھی آجاتے ہیں۔جیسا کہ قرآن مجید میں اسی تقدیر الہی کا ذکر ان الفاظ میں وارد ہوا ہے: وَاتَّقُوا فِتْنَةٌ لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمُ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ O (الأنفال : ۲۶) یعنی اس فتنہ سے بچو جو تم میں سے صرف ظالموں ہی کو نہیں پہنچے گا بلکہ دوسروں کو بھی پہنچے گا اور یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب نہایت ہی سخت ہوتا ہے۔یہ قانونِ الہی قومی عذاب کے وقت جاری ہوتا ہے۔لیکن اخروی زندگی میں نیکوں کی نیکی نظر انداز نہ ہوگی بلکہ انہیں ان کی نیتوں کے مطابق بدلہ ملے گا۔دنیاوی سزا میں اُن کی شمولیت در اصل اس غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ہوتی ہے جو انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح میں کی ہوتی ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اس حدیث کے نقل کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی مکان کی نحوست در حقیقت مکینوں کی بدعملی کی وجہ سے ہوتی ہے۔دوسری روایت ( نمبر ۲۱۱۹) سے ظاہر ہے کہ بازار کے کاروبار میں مشغول رہنے کے باوجود بھی اطاعت الہی مقدم رکھی جاسکتی ہے، جس کی وجہ سے نیکی کا ثواب کئی گنا ہو جاتا ہے کیونکہ انسان کو اپنے نفس سے اس میں ایک جہاد کرنا پڑتا ہے۔تیسری اور چوتھی روایت نمبر ۲۱۲۱،۲۱۲۰) میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بازار میں آیا جایا کرتے تھے اور یہ خیال کہ بازار منحوس ہوتے ہیں درست نہیں۔پانچویں روایت (نمبر ۲۱۲۲) سے ظاہر ہے کہ حضرت فاطمتہ الزہراء کا گھر منڈی ہی میں واقع تھا۔چھٹی اور ساتویں روایت (نمبر ۲۱۲۳ ۲۱۲۴) میں بتایا گیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بازاروں میں کاروبار کیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود نگرانی فرماتے اور منڈیوں میں آپ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم کو مقرر فرماتے تھے کہ وہاں خلاف شریعت کا روبار نہ ہو۔ایسا انتظام کرنا حکومت کے فرائض میں سے ہے، تا بازار اور منڈی میں اسلامی احکام پر عمل درآمد ہو۔قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ - اس تعلق میں باب ۵۵ بھی دیکھئے۔باب ٥٠ : كَرَاهِيَةُ السَّخَبِ فِي الْأَسْوَاقِ بازاروں میں شور و غل مچانا نا پسندیدہ امر ہے ۲۱۲٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ۲۱۲۵: محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح نے حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عَطَاءِ ہمیں بتایا کہ حلال ( بن علی ) نے عطاء بن بیار سے ابْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقِيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا کہ میں اللهُ عَنْهُمَا قُلْتُ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ملا اور کہا کہ ض الله ابْنِ الْعَاصِ رَضِيَ أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی صفت بتا ئیں جو تورات