صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 94
صحيح البخاری جلد ۴ ۹۴ ۳۴- كتاب البيوع حَيْثُ اشْتَرَوْهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ حَيْثُ جو ان کو غلہ وہیں بیچنے سے منع کرتا، جہاں انہوں نے خریدا ہے؛ جب تک کہ وہ غلہ وہاں نہ لے آئیں يُبَاعُ الطَّعَامُ۔جہاں وہ بیچا جاتا ہے۔اطرافه ۲۱۳۱، ۲۱۳۷، ٢١٦٦، ٢١٦٧، ٦٨٥٢۔٢١٢٤: قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ ۲۱۲۴: ( نافع نے ) کہا: اور حضرت ابن عمر رضی اللہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى عنہما نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الطَّعَامُ إِذَا علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ غلہ اُسی وقت بیچا جائے جس وقت کسی نے اسے خریدا ہو؟ اشْتَرَاهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ۔اطرافه ۲١٢٦، ۲۱۳۳، ٢١٣٦۔جب تک کہ وہ اس پر پورا قبضہ نہ کر لے۔تشریح: مَا ذُكِرَ فِي الْاَسْوَاقِ: مسند احمد بن حنبل میں ایک روایت منقول ہے، جس کی رو سے بازار اور منڈیاں بدترین جگہ ٹھہرتی ہیں۔یہ روایت حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرَّ فَقَالَ أَسْوَاقھا کہ بازار بدترین جگہیں ہیں۔ابن حبان اور حاکم نے بھی یہ روایت صحیح قرار دی ہے۔حاکم کی روایت جو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ وَشَرُّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاق سے یعنی اللہ تعالیٰ کی نہایت ہی پیاری جگہیں مسجد میں ہیں اور قابل نفرت جگہیں بازار ہیں۔یہ روایتیں امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی شرائط کے مطابق نہیں۔اس باب کا مقصد واضح کرنے کی غرض سے عنوان ہی میں حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عمر کی دو روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۲۰۶۲۲۰۴۸) جن سے پایا جاتا ہے کہ بازار اور منڈی میں دونوں قسم کی صورتیں پائی جاتی ہیں۔خیر و برکت کی بھی ، شر اور نقصان کی بھی ؛ جو در حقیقت نسبتی امور ہیں۔عقل وضبط اور حسن تصرف اور تقویٰ سے جو کوئی کام لے گا تو یہی جگہیں اس کے لیے بابرکت ہونگی اور اگر غفلت و جہالت اور معصیت اور خواہشات اور نفس کی پیروی سے کام لیا گیا تو یہی جگہیں آدمی کے لئے نحوست اور بے برکتی کا موجب ہوں گی۔یہی حکمت ذہن نشین کرانے کی غرض سے اس باب کے تحت سات روایتیں نقل کی گئی ہیں۔پہلی روایت (نمبر ۲۱۱۸) کا تعلق ایک حدیث سے ہے جو رویا کی بناء پر بیان کی گئی ہے اور اس کا تعلق ایک پیشگوئی سے ہے جو بنی امیہ کے عہد خلافت میں اُس وقت پوری ہوئی جب یزید کی موت کے بعد حضرت عبد اللہ بن زبیر کی بیعت ہوئی اور ۷۶ ھ میں مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی گئی اور وہ شہید ہوئے۔لیکن بنوامیہ کی یہ تعدیاں بہت جلد ان کی تباہی کا (مسند احمد بن حنبل جزء ۴ صفحه (۸) صحیح ابن حبان ، كتاب الصلاة ، ذكر البيان بأن خير البقاع فى الدنيا المساجد، جز ۴ صفحه ۴۷۶) (المستدرك، كتاب العلم، خير البقاع المساجد وشر البقاع الأسواق، جزء اول صفحه ۹۰)