صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 93
صحيح البخاری جلدم ۹۳ ۳۴- كتاب البيوع عبید ۲۱۲۲: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۲۱۲۲ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ يَزِيدَ عَنْ نَّافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ بن ابی یزید سے، عبید اللہ نے نافع بن جبیر بن مطعم سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ سے روایت أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے (پچھلے ) قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر نکل کر جانے لگے۔نہ آپ مجھ سے بات کرتے ،نہ طَائِفَةِ النَّهَارِ لَا يُكَلِّمُنِي وَلَا أُكَلِّمُهُ میں آپ سے بات کرتا؛ یہاں تک کہ آپ بنی قینقاع حَتَّى أَتَى سُوْقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَجَلَسَ کے بازار میں آئے اور حضرت فاطمہ سے صحن مکان میں بِفِنَاءِ بَيْتِ فَاطِمَةَ فَقَالَ أَثَمَّ لُكَعُ أَثَم بیٹھ گئے اور فرمایا: کیا بچہ ہیں ہے؟ کیا بچہ یہیں ہے؟ آپ کی مراد حضرت حسنؓ سے تھی ) تو ( حضرت فاطمہ لُكَعْ فَحَبَسَتْهُ شَيْئًا فَظَنَنْتُ أَنَّهَا تُلْبِسُهُ نے) کچھ دیر اُسے رو کے رکھا۔جس سے میں سمجھا کہ سِحَابًا أَوْ تُغَسِلُهُ فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى وہ اسے ہار پہنا رہی ہیں یا نہلا رہی ہیں۔اتنے میں وہ عَانَقَهُ وَقَبَّلَهُ وَقَالَ اللَّهُمَّ أَحِبَّهُ وَأَحِبَّ دوڑا آیا۔اس کے آتے ہی آپ نے اسے گلے لگایا اور مَنْ يُحِبُّهُ۔قَالَ سُفْيَانُ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ اسے بوسہ دیا اور فرمایا: اے اللہ ! اسے اپنا محبوب بنائیو أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَى نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَوْ تَرَ اور اس شخص سے بھی محبت کر کی جو اس سے محبت رکھے۔سفیان نے کہا: عبید اللہ نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے نافع بن جبیر کو دیکھا تھا۔وہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔بِرَكْعَةٍ۔طرفه: ٥٨٨٤۔۲۱۲۳: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۲۱۲۳: ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ابو ضمره انس بن عیاض) نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن عُقْبَةَ عَنْ نَافِعِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ أَنَّهُمْ عقبہ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان كَانُوا يَشْتَرُوْنَ الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ کیا کہ حضرت ابن عمرؓ نے ہمیں بتایا کہ لوگ نبی عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قافلے والوں سے فَيَبْعَثُ عَلَيْهِمْ مَّنْ يَّمْنَعُهُمْ أَنْ يُيْعُوهُ غلہ خریدا کرتے تھے۔تو آپ اُن کے پاس کسی کو بھیجتے