صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 90
صحيح البخاری جلدم 9+ ۳۴- كتاب البيوع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ پایا اور ایک سو میں سال کی عمر میں فوت ہوئے۔جب انہیں بتایا جا تا کہ فلاں شئے کی قیمت آپ سے زیادہ لے لی گئی ہے تو وہ کسی صحابی کو اپنے ساتھ بطور گواہ لے جاتے جو شہادت دیتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے تین دن کی مدت خیار مقرر فرمائی تھی اور اس شہادت پر بیع نسخ ہو جاتی۔امام احمد بن حنبل اور اصحاب السنن، ابن حبان، حاکم وغیرہ نے بھی یہی روایت نقل کی ہے ہمیں ان کے واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے امام احمد بن حنبل وغیرہ نے فتوی دیا ہے کہ صریح دھو کہ ثابت ہونے پر نا واقف مشتری کی بیع قابل فسخ ہوگی۔مشار الیہ حوالوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے: فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۴۲۶، ۴۲۷ - عمدۃ القاری جزءا اصفحه ۲۳۳ ۲۳۴۰ بَاب ٤٩ : مَا ذُكِرَ فِي الْأَسْوَاقِ ☆ منڈیوں کے بارے میں جو مذکور ہے وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ لَمَّا اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا: جب ہم مدینہ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قُلْتُ هَلْ مِنْ سُوْقٍ فِيْهِ آئے۔میں نے پوچھا: کیا کوئی منڈی ہے جس میں تِجَارَةٌ قَالَ سُوْقُ قَيْنُقَاعَ وَقَالَ أَنَسٌ تجارت ہوتی ہو؟ تو کہا: قینقاع کی منڈی ہے۔اور قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ دُلُّونِي عَلَى حضرت انس کہتے تھے کہ حضرت عبدالرحمن نے کہا: السُّوْقِ۔وَقَالَ عُمَرُ أَلْهَانِي الصَّفْقُ مجھے منڈی کا پتہ دو اور حضرت عمر نے کہا: منڈیوں میں لین دین نے مجھے غافل رکھا۔بِالْأَسْوَاقِ۔عَنْ :۲۱۱۸ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ :۲۱۱۸: محمد بن صباح نے مجھ سے بیان کیا کہ اسماعیل الصَّبَّاح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ بن زکریا نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن سوقہ سے، مُّحَمَّدٍ بن سُوْقَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ انہوں نے نافع بن جبیر بن مطعم سے روایت کی۔انہوں جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کعبہ پر ایک صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرُو جَيْسٌ لشکر چڑھائی کرے گا۔جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو اول (صحيح ابن حبان، كتاب البيوع، ابواب الحجر، ذكر الأمر للمحجور عليه، روایت نمبر ۵۰۵۲، جزءا صفحه ۴۳۳) (المستدرك على الصحيحين، كتاب البيوع، لا عهدة فوق أربع جزء ۲ صفحه ۲۲) ( مسند احمد بن حنبل، جزء ۲ صفحه ۴۴، ۱۲۹ - جز ۳ صفحه ۲۱۷)