صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 89 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 89

صحيح البخاری جلد ۴ ۸۹ ۳۴- كتاب البيوع مرضی یا اجازت سے موہوب لۂ اُس پر قابض ہو۔ مالکیوں اور حنفیوں کے نزدیک قبضہ دراصل نام ہے کسی شئے سے دوسرے کے حق میں دست بردار ہونے کا۔ جہ ونے کا۔ جو مذکورہ بالا واقعہ میں مجرد قول واقرار سے با فعل ہو چکا تھا۔ امام بخاری نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے، جیسا کہ باب ۳۴ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے۔ ( فتح الباری جز ۴ صفحہ ۴۲۴ ) باب ٤٨ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْخِدَاعِ فِي الْبَيْعِ بیع میں فریب رہی مگر وہ ہے ۲۱۱۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۱۱۷: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوْعِ فَقَالَ إِذَا سے ذکر کیا کہ اُسے خرید و فروخت میں دھوکہ دے دیا جاتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: جب خرید و فروخت کرو تو بَايَعْتَ فَقُلْ لَّا خِلَابَةَ۔ اطرافه: ٢٤٠٧، ٢٤١٤، ٦٩٦٤۔ کہہ دیا کرو کہ فریب اور دھوکے کی بات نہ ہوگی ۔ ه تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْخِدَاعِ فِي الْبَيع : مثل مشہور ہے۔ مشتری ہوشیار باش که خریدار و ہوشیار رہنا چاہیے۔ اس تعلق میں فقہاء نے سوال اُٹھایا ہے کہ آیا دھوکے کی بیچ قابل فسخ ہوگی یا قائم رہے گی؟ اس کا جواب اس روایت کی بناء پر یہ دیا گیا ہے کہ بوقت بیچ شرط کر لی جائے کہ اس میں دھوکا فریب نہیں ہوگا۔ پھر اگر خرید کردہ شئے ناقص ثابت ہو یا بازاری نرخ کی رو سے اس کی قیمت زیادہ ہو تو ایسی مشروط بیچ شیخ ہوگی۔ ابن جارود نے كتاب المنتقیٰ میں نافع کی جو روایت میں نافع کی جو روایت سفیان بن عیینہ سے نقل کی ہے، اس میں صحابی کا نام حضرت حسان بن منقد بتایا گیا ہے کہ جو بوقت بیچ دھوکا کھا جایا کرتے تھے۔ یہ صحابی غزوہ احد میں شریک ہوئے اور سر پر زخم لگنے کی وجہ سے ان کے دماغ کو صدمہ پہنچا تھا۔ بہت سادہ طبیعت تھے۔ دار قطنی اور بیہقی نے کی روایتوں میں بتایا گیا ہے کہ وہ محمد بن يحي بن حبان کے دادا تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی سے فرمایا تھا کہ بوقت بیچ لا خِلَابَةَ يَا لَا خِدَاع کہہ دیا کریں اور اس کے بعد تین دن تک ان کو اختیار ہوگا کہ اگر دھوکا ثابت ہو تو خرید کردہ اشیاء واپس کر سکتے ہیں۔ انہوں نے المنتقى لابن الجارود في التجارات، روایت نمبر ۵۶۷، جزء اول صفحہ ۱۴۶) (سنن الدار قطنی، کتاب البیوع روایت نمبر ۲۲۰، جزء۳ صفحه ۵۵) (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب البيوع، باب الدليل على ان لا يجوز شرط الخيار في البيع اكثر من ثلاثة أيام، جزء ۵ صفحه ۲۷۳)