صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 88
صحيح البخاری جلد ۴ MA ۳۴- كتاب البيوع تشریح : إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا فَوَهَبَ مِنْ سَاعتہ یہاں تقریج کے بیج اور واجب ہونےکا سابقہ مضمون ختم کر دیا گیا ہے۔جیسا کہ سابقہ روایات کے حوالہ سے ظاہر ہے جو عنوانِ باب میں دہرائے گئے ہیں اور بعض صحابہ کرام کے عمل سے بتایا گیا ہے کہ وہ ارشاد نبوی سے کیا سمجھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیع کی اور اُسی وقت اُونٹ ہبہ کر دیا۔وَلَمْ يُنْكِرِ الْبَائِعُ : یعنی حضرت عمرضی اللہ عنہ نے اپنی خاموشی اور رضامندی سے آپ کے اس فعل کی تصدیق کر دی۔عنوان باب میں یہ الفاظ نمایاں کر کے امام بخاری نے یہ بات ذہن نشین کی ہے کہ بیچ زبانی قول اقرار سے مکمل ہوگئی اور باوجود نخ کا اختیار ہونے کے ایسی بیع تکمیل شدہ تصور کی گئی۔بغیر اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بائع سے جدا ہوئے ہوں یا اونٹ اپنے قبضہ میں لیا ہو۔اسی طرح حضرت ابن عمرؓ کا حضرت عثمان سے عقد بیع کر کے نکل جانا بتاتا ہے کہ بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہو جا ئیں ، رضا یا عدم رضا بیج یا مسیح بیع کا اختیار رکھتے ہیں۔رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ غَبَنْتُهُ : مذکورہ بالا مبادلہ اراضی میں کوئی دھوکہ نہیں تھا۔دونوں زمینیں مدینہ کے قرب وجوار میں تھیں۔ان میں سے ایک نسبتاً قریب تھی اور دوسری کسی قدر دُور۔اور حضرت عثمان کو اپنی زمین کے جائے وقوع کا پور اعلم تھا۔رَأَيْتُ انِي قَدْ غَبَنْتُهُ - یعنی میں سمجھا کہ میں نے اُن کو بیع میں نقصان پہنچایا ہے۔یہ خدشہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں گزرا۔وہ ان کا اپنا خیال تھا، ورنہ ان کی شہرت ، تقوی وزہد کے پیش نظر یہ سمجھنا درست نہیں کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی لاعلمی سے ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے۔کیونکہ حضرت عثمان دونوں زمینوں کی جائے وقوع سے واقف تھے اور یہ اُن کی سماحت و سخاوت نفس کا ثبوت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی خواہش پوری کی اور ایک عمدہ مثال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرتربیت صحابہ کرام معاملات بیع و شراء میں سہولت اور حسن سلوک سے کام لیا کرتے تھے۔غرض عقد بیع کی صحت کے لئے جہاں تک حصولِ قبضہ کا تعلق ہے، اس میں بھی نقطہ نظر ہمیشہ ایک ہی نہیں رہا ہے۔چنانچہ امام ابوحنیفہ امام ابو یوسف نے مکان اور زمین کو اس شرط سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔امام اوزاعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ نے صرف تول اور ماپ کی اشیاء میں قبضہ کی شرط ضروری قرار دی ہے۔مگر ان کے فتویٰ کے برخلاف امام شافعی اور امام محمد بن حسن نے قبضہ کے بغیر خرید و فروخت مطلق ناجائز قرار دی۔امام مالک اور ابوثور نے خوردنی اشیاء کے لئے قبضہ ضروری قرار دیتے ہوئے باقی اشیاء مستقلی کی ہیں اور وہ بغیر قبضہ فروخت یا ہبہ کی جاسکتی ہیں۔اسی طرح غلام، لونڈی بھی ہبہ یا آزاد کی جاسکتی ہے بغیر اس کے کہ ان پر قبضہ حاصل ہو بلکہ ان کی قیمت بھی قابل ادا ہو۔اس بارہ میں جمہور کا بھی یہی مذہب ہے۔شوافع کے نزدیک بیچ ، ہبہ وغیرہ میں قبضہ ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو منہ زور اونٹ ہبہ کر دینے کا واقعہ ان کے اس فتویٰ کے خلاف ہے کہ آپ نے قبضہ حاصل کئے بغیر اسے ہبہ کر دیا۔شافعیوں کی طرف سے اس کا جواب دیا گیا ہے کہ اونٹ فروخت ہونے کی صورت میں حضرت ابن عمرؓ کا قبضہ صرف بطور وکالت متصور ہوگا؟ جو کہ در حقیقت از روئے بیچ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں تھا۔اس سے علامہ بغوی نے استنباط کرتے ہوئے فتویٰ دیا ہے کہ بیچ اور ہبہ درست تسلیم کی جائے گی ، اگر مشتری اور ہبہ کرنے والے کی