صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 87
صحيح البخاری جلدم AL ۳۴- كتاب البيوع بِعْنِيْهِ فَبَاعَهُ مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله قیمتا دے دیں۔انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ آپ کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ وَسَلَّمَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فروخت کر دیں۔چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وہ بیچ دیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تَصْنَعُ بِهِ مَا شِئْتَ۔اطرافه: ٢٦١٠، ٢٦١١۔فرمایا : عبد اللہ بن عمر یہ تمہارا ہے۔اس سے جو چاہو کرو۔٢١١٦: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَ ۲۱۱۶: ابو عبداللہ (امام بخاری ) نے کہا: اور لیٹ (بن اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ سعد) کہتے تھے کہ عبدالرحمن بن خالد نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عبد اللہ سے ، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر اللہ سے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا روایت کی کہ انہوں نے کہا: امیر المومنین حضرت عثمان قَالَ بِعْتُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِيْنَ عُثْمَانَ بن عفان ﷺ کو میں نے اپنی ایک جائیداد جو وادی میں عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَالًا تھی اُن کی اس جائیداد کے بدلے میں جو خیبر میں تھی بِالْوَادِي بِمَالٍ لَّهُ بِخَيْبَرَ فَلَمَّا تَبَايَعْنَا دے دی۔جب ہم دونوں نے ایک دوسرے سے مبادلہ کر لیا تو میں اپنی ایڑی کے بل کو ٹا یہاں تک کہ اُن کے ابن رَجَعْتُ عَلَى عَقِبِي حَتَّى خَرَجْتُ مِنْ گھر سے باہر آ گیا، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اس مبادلہ بَيْتِهِ خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي الْبَيْعَ وَكَانَتِ کو فتح نہ کر دیں اور یہ دستور تھا کہ بائع اور مشتری کو اُس شیخ السُّنَّةُ أَنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ حَتَّى وقت تک فتح کرنے کا اختیار ہے جب تک ایک دوسرے يَتَفَرَّقَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا وَجَبَ بَيْعِي سے جدا نہ ہو جائیں۔حضرت عبداللہ کہتے تھے کہ جب وَبَيْعُهُ رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ غَبَنْتُهُ بِأَنِّي سُفْتُهُ میری اور ان کی بیچ لازم ہوگئی تو مجھے خیال آیا کہ میں نے انہیں نقصان پہنچایا ہے۔اس لئے کہ میں نے ان کو علاقہ إِلَى أَرْضِ ثَمُوْدَ بِثَلَاثِ لَيَالِ وَسَاقَنِي محمود کی طرف اتنی دور کر دیا ہے جو تین دن اور رات کی إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ لَيَالٍ۔مسافت کے برابر ہے اور انہوں نے مجھے مدینہ کی طرف اتنا قریب کر دیا ہے جس میں تین دن اور رات کا فاصلہ ہے۔( یعنی جو تین دن کی مسافت کے برابر ہے۔) اطرافه: ۲۱۰۷، ۲۱۰۹، ۲۱۱۱، ۲۱۱۲، ۲۱۱۳۔