صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 86
صحيح البخاری جلد ۴ AT ۳۴- كتاب البيوع تشریح : إِذَا كَانَ الْبَائِعُ بِالْخِيَارِ هَلْ يَجُوزُ البَيعُ : بعض فقہاء نے اختیار کان صرف مشتری کے لئے مخصوص کیا ہے، بائع کے لئے نہیں۔اس باب میں ان کا رڈ مقصود ہے کیونکہ حدیث میں الْبَيْعَانِ بالخیار کی صراحت ہے۔یعنی عقد بیع میں دونوں قبول یا فسخ کرنے کا حق رکھتے ہیں خواہ خیار بالمجلس کی صورت ہو یا نیچ مشروط بالخیار کی۔حضرت حکیم بن حزام کی یہ روایت پہلے گزر چکی ہے۔دیکھئے باب ۴۲ روایت نمبر ۲۱۰۸۔باب ٤٧ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا فَوَهَبَ مِنْ سَاعَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا وَلَمْ يُنْكِرِ الْبَائِعُ عَلَى الْمُشْتَرِي أَوِ اشْتَرَى عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ جب ایک شخص کوئی شئے خریدے اور اُس وقت وہ ہبہ کردے؛ پیشتر اس کے کہ بائع اور مشتری جدا ہوں اور بائع مشتری کا فعل برا نہ منائے یا کوئی غلام خرید کر اُسے آزاد کر دے وَقَالَ طَاوُسٌ فِيْمَنْ يَشْتَرِي السَّلْعَةَ اور طاؤس نے اُس شخص کی نسبت جس نے عَلَى الرِّضَا ثُمَّ بَاعَهَا وَجَبَتْ لَهُ رضامندی سے سامان خریدا، پھر اُسے بیچ دیا، کہا ہے کہ اُس کی بیع لازم ہوگئی اور نفع اُس (خریدار) کا ہوگا وَالرِّبْحُ لَهُ۔رَضِيَ لله (جس نے آخر میں بیچا ہے۔) ۲۱۱٥: وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا :۲۱۱۵: اور حمیدی نے کہا: سفیان بن عیینہ ) نے ہم سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنِ ابْنِ عُمَرَ سے بیان کیا کہ عمرو بن دینار ) نے ہمیں بتایا۔انہوں اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَكُنْتُ نے کہا: بی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک سفر میں تھے عَلَى بَكْرٍ صَعْبِ لِعُمَرَ فَكَانَ يَغْلِبُنِي اور میں ایک منہ زور جوان اونٹ پر سوار تھا جو ( میرے فَيَتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيَرُدُّهُ (والد) حضرت عمر کا تھا تو وہ مجھے بے بس کرتا اور لوگوں ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيَرُدُّهُ فَقَالَ کے آگے بڑھ جاتا۔حضرت عمرؓ سے ڈانٹتے اور پیچھے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ کردیتے۔پھر وہ (لوگوں کی سواریوں سے ) آگے بڑھ بِعْنِيْهِ قَالَ هُوَ لَكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ جاتا اور اُس کو حضرت عمر ڈانٹتے اور پیچھے کر دیتے۔تو رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا: یہ مجھے