صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 85
صحيح البخاری جلد ۴ ۸۵ ۳۴- كتاب البيوع ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَن اللهُ عَنْهُمَا عَن عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ رضی اللہ عنہا سے ، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: کسی بائع اور مشتری بَعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا کے درمیان اس وقت تک بیع مکمل نہیں ہوتی جب بَيْعَ الْخِيَارِ۔اطرافه تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، ایسی بیع کے سوا جس میں فسخ کرنے کا اختیار ہو۔۲۱۱۹ ،۲۱۱۲ ،۲۱۱۱ ،۲۱۰۹ ،۲۱۰ ٢١١٤: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۲۱۱۴ اسحاق ( بن منصور ) نے مجھ سے بیان کیا کہ حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ حبان نے ہمیں بتایا کہ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ أَبِي الْخَلِيْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قادہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوالخلیل سے، ابو تحلیل نے عبداللہ بن حارث سے، عبداللہ نے حضرت حکیم عَنْ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ بن حزام سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے فرمایا کہ بائع اور مشتری فتح کا اختیار رکھتے ہیں الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا قَالَ جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔ہمام نے کہا: میں هَمَّامٌ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي يَخْتَارُ ثَلَاثَ نے اپنی کتاب میں یوں لکھا ہی پایا ہے: تین بار وہ مِرَارٍ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوْرِكَ لَهُمَا فِي اختیار رکھتا ہے۔پس اگر ان دونوں نے سچائی سے کام بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا فَعَسَى أَنْ لیا اور کھول کر بات کی تو ان دونوں کے لئے ان کی خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی اور اگر جھوٹ يَرْبَحَا رِبْحًا وَيُمْحَقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا سے کام لیا اور سودے میں ) عیب کو چھپایا تو ہوسکتا قَالَ وَحَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ہے کہ وہ دونوں تھوڑ اسا نفع اٹھائیں۔لیکن ان کی بیع أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ میں برکت نہ ہوگی۔(حبان نے ) کہا: اور ہمام نے ہم بِهَذَا الْحَدِيْثِ عَنْ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ سے بیان کیا کہ ابوالنتیاح نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔عبد اللہ بن حارث سے سنا۔وہ یہ حدیث بسند حضرت حکیم بن حزام نبی مہ سے بیان کرتے ہیں۔اطرافه: ۲۰۷۹، ۲۰۸۲، ۲۱۰۸، ۲۱۱۰ عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ہے۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۳۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔