صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 83 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 83

صحيح البخاری جلدم حَكِيْمَ ۸۳ ۳۴- كتاب البيوع ۲۱: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۲۱۱۰ اسحاق ( بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا کہ حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حبان بن ہلال نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا کہ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيْلِ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: قتادہ نے مجھے خبر دی۔انہوں نے صالح ابوالخلیل سے، صالح نے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ عبد اللہ بن حارث سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ فرمایا: بائع اور مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ وہ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوْرِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا دونوں جدا نہ ہو جائیں۔اگر انہوں نے سچائی سے کام وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ لیا اور کھول کر بیان کیا تو اُن کے سودے میں برکت دی جائے گی اور اگر انہوں نے جھوٹ سے کام لیا اور بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْعِهما۔چھپایا تو اُن کے سودے کی برکت مٹادی جائے گی۔اطرافه ،۲۰۷۹، ۲۰۸۲، ۲۱۰۸، ۲۱۱۴ ۲۱۱۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۱۱۱ عبدالله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَّافِعِ عَنْ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے نافع سے، نافع عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بائع اور مشتری ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا بِالْخِيَارِ مقابل اختیار رکھتا ہے کہ جب تک وہ جدا نہ ہو عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ جائیں، سوائے اس کے کہ بیع خیار ہو۔( یعنی جس الْخِيَارِ۔میں فسخ بیع کا اختیار ہو۔) اطرافه ۲۱۰۷، ۲۱۰۹، ۲۱۱۲، ۲۱۱۳، ۲۱۱۶۔فریح: الْبَيِّعَان بالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا : عنوانِ باب میں حضرت عبد اللہ بن عمر و غیرہ کے اقوال کا حوالہ دیا گیا ہے؛ جس سے ظاہر ہے کہ خیار بالمجلس کی صورت میں بائع اور مشتری دونوں کو اختیار ہے کہ بیچ قائم رکھیں یا فسخ کریں۔