صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 82 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 82

صحيح البخاری جلد ۴ ۸۲ ۳۴- كتاب البيوع بَاب ٤٣ : إِذَا لَمْ يُوَقِّتِ الْخِيَارَ هَلْ يَجُوْزُ الْبَيْعُ؟ اگر کوئی اختیار کی مدت معین نہ کرے تو کیا بیع جائز ہوگی ؟ ۲۱۰۹ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۲۱۰۹: ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حمادیہ بن زید حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعِ نے ہمیں بتایا کہ ایوب (سختیانی ) نے ہم سے بیان عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ کیا۔ انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَقُوْلُ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری اختیار رکھتے ہیں، أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اخْتَرْ وَرُبَّمَا قَالَ أَوْ جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں یا ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ پسند کرلے۔ اور کبھی آپ يَكُونُ بَيْعَ خِيَارٍ۔ نے یہ فرمایا : یا ربیع اختیاری ہو۔ اطرافه: ۲۱۰۷، ۲۱۱۱، ۲۱۱۲، ۲۱۱۳، ۲۱۱۶۔ تشريح : إِذَا لَمْ يُوَقِّتِ الْخِيَارَ هَلْ يَجُوزُ الْبَيع : سابقہ باب کی شرح میں دو ائمہ کا یح میں دو ائمہ کا فتوی بیان کیا جا چکا ہے کہ تین دن سے زائد مدت خیار نہیں۔ امامین ابو یوسف و محمد اور امام ابن ابی لیلی وغیرہ نے اس سے اختلاف کیا اور کہا ہے کہ مشروط بیچ میں مدت کا تعین بائع اور مشتری کی رائے پر ہے، تین دن سے کم ہو یا زیادہ۔ بلکہ ان کے نزدیک بیچ مشروط بالخیار میں مدت کا ذکر نہ بھی ہو تو عقد بیچ درست ہوگی ۔ امام اوزاعی اور ابن ابی لیلی نے بھی یہی فتوئی دیا ہے ، مگر ان کے نزدیک ایسی شرط باطل ہے، جس میں وقت معین نہ ہو، جبکہ بیع جائز ہوگی ۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۴۱۴) اس باب میں یہی فقہی اختلاف مد نظر ہے۔ حدیث زیر باب سابقہ باب میں گذر چکی ہے۔ اس میں بیع الخیار کا ذکر تو ہے لیکن وقت کی تعیین مذکور نہیں ۔ اس لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس بارہ میں گو خاموشی اختیار کی ہے مگر اس کے بعد ابواب کی ترتیب میں ان کی رائے کا اظہار موجود ہے۔ باب ٤٤ : الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا بائع اور مشتری اختیار رکھتے ہیں جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں وَبِهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَشُرَيْحٍ وَالشَّعْبِيُّ اور حضرت ابن عمر ، تشریح، شعبی ، طاؤس، عطا اور ابن وَطَاوُسٌ وَعَطَاءٌ وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَة ابی ملیکہ نے اس کا فتوی دیا ہے۔