صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 82
صحيح البخاری جلدم ۸۲ ۳۴- كتاب البيوع بَاب ٤٣ : إِذَا لَمْ يُوَقِّتِ الْخِيَارَ هَلْ يَجُوْزُ الْبَيْعُ؟ اگر کوئی اختیار کی مدت معین نہ کرے تو کیا بیع جائز ہوگی؟ ۲۱۰۹: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۲۱۰۹: ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعِ نے ہمیں بتایا کہ ایوب (سختیانی ) نے ہم سے بیان عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کیا۔انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ الْبَيْعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَقُولُ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری اختیار رکھتے ہیں، أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اخْتَرُ وَرُبَّمَا قَالَ أَوْ جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں یا اُن میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ پسند کرلے۔اور کبھی آپ يَكُونُ بَيْعَ خِيَارٍ۔نے یہ فرمایا: یا بیع اختیاری ہو۔اطرافه ،۲۱۰۷، ۲۱۱۱، ۲۱۱۲، ۲۱۱۳، ۲۱۱۶ فيح : إِذَا لَمْ يُوَقِّتِ الْخِيَارَ هَلْ يَجُوزُ الْبَيْعُ : سابقه با کی ترقی میں روانہ کا فتوی بیان کیا الموتر جاچکا ہے کہ تین دن سے زائد مدت خیار نہیں۔امامین ابو یوسف و محمد اور امام ابن ابی لیلی وغیرہ نے اس سے اختلاف کیا اور کہا ہے کہ مشروط بیچ میں مدت کا تعین بائع اور مشتری کی رائے پر ہے، تین دن سے کم ہو یا زیادہ۔بلکہ ان کے نزدیک بیع مشروط بالخیار میں مدت کا ذکر نہ بھی ہو تو عقد بیچ درست ہوگی۔امام اوزاعی اور ابن ابی لیلی نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے ، مگر ان کے نزدیک ایسی شرط باطل ہے، جس میں وقت معین نہ ہو ، جبکہ بیج جائز ہوگی۔(فتح الباری جز پہ صفر ۴ ۴۱ ) اس باب میں یہی فقہی اختلاف مدنظر ہے۔حدیث زیر باب سابقہ باب میں گذر چکی ہے۔اس میں بیع الخیار کا ذکر تو ہے لیکن وقت کی تعیین مذکور نہیں۔اس لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس بارہ میں گو خاموشی اختیار کی ہے مگر اس کے بعد ابواب کی ترتیب میں ان کی رائے کا اظہار موجود ہے۔بَاب ٤ ٤ : الْبَيْعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا بائع اور مشتری اختیار رکھتے ہیں جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں وَبِهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَشُرَيْحٍ وَالشَّعْبِيُّ اور حضرت ابن عمر ، شریح، شعبی ، طاؤس، عطا اور ابن وَطَاوُسٌ وَعَطَاء وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ۔ابی ملیکہ نے اسی کا فتویٰ دیا ہے۔