صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 81
صحيح البخاری جلد ۴ M ۳۴- كتاب البيوع کے یہ معنی ہیں کہ بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہو جائیں، فسخ بیع کا اختیار رکھتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی جوامع الکلم میں سے ہے۔ فقہاء نے یہاں سوال اُٹھایا ہے کہ آیا مذکورہ علیحدگی کا کوئی حصہ معین ہے؟ مثلاً خریدار سودا لے کر جا رہا ہے، راستے میں اُس کا نقص معلوم ہوا ہے تو آیا وہ اسے واپس کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ کی وضاحت میں چھ ابواب مختلف عنوانوں سے قائم کئے گئے ہیں۔ پہلے باب میں دو حدیثیں نقل کی گئی ہیں۔ جن میں کسی مدت کا ذکر نہیں۔ صرف دو صورتیں ہی بیان ہوئی ہیں جن کا تعلق حالات اور اشیاء کی نوعیت سے ہے۔ اصحاب السنن بیہقی وغیرہ نے ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن میں تین دن کی مدت کا ذکر ہے۔ ان میں سے ایک روایت حضرت حبان بن منقذ کی بھی ہے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ خرید و فروخت میں وہ دھو کہ کھا جاتے ہیں تو آپ نے اُن سے فرمایا کہ بوقت بیچ یہ کہہ دیا کرو: لا خلابَةَ یعنی اس میں کوئی دھوکہ فریب نہ ہوگا۔ اگر خرید کردہ شئے میں نقص دیکھو یا یہ معلوم ہو کہ وہ مہنگی ہے، وہ واپس کر دو۔ ابن اسحاق کی سند میں یہ الفاظ ہیں : ثُمَّ اَنْتَ بِالْخِيَارِ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا ثَلَاثَ ليال۔ (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب البيوع، باب الدليل على ان لا يجوز شرط الخيار في البيع اكثر من ثلاثة أيام، جزء ۵ صفحه ۲۷۳) یعنی ہر ایسا سامان جو تم نے خریدا ہو، اختیار رکھتے ہو کہ ناقص معلوم ہونے پر تین دن کے اندر اندر واپس کر دو۔ یہ روایت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی نقل ہے۔ (دیکھئے باب ۴۸ روایت نمبر ۷ ۲۱۱) لیکن اس میں نہ تو نام مذکور ہے اور نہ تین دن کا ذکر ہے۔ مطلق الفاظ لا خِلابَةَ سے بیع کو مشروط کیا گیا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی نے اصحاب السنن کی روایت قبول کرتے ہوئے تین دن تک اختیار فتح کا فتوی دیا ہے۔ امام مالک اس فتوے کے خلاف ہیں۔ ان کے نزدیک یہ حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس ضمن میں فقہاء نے اختیار شیخ کی دو قسمیں بیان کی ہیں: (۱) خیار المجلس - (۲) خیار الشرط۔ یعنی جب تک بائع اور مشتری اکٹھے ہوں بیچ فسخ کرنے کا حق رکھتے ہیں یا یہ کہ شرط کر لی جائے کہ اتنے عرصہ تک واپسی کا حق ہوگا۔ ان دونوں صورتوں میں سے وقت کی تعیین کا فیصلہ حالات پر موقوف ہے۔ امام بخاری کا میلان امام مالک کی رائے کی طرف ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۱۳) حدیث زیر باب میں دونوں قسم کے اختیار فسخ کی صراحت ہے۔ وَزَادَ أَحْمَدُ ۔۔۔۔۔ كُنتُ مَعَ أَبِي الْخَلِيلِ : روایت نمبر ۲۱۰۸ کے آخر میں احمد بن سعید کا حوالہ بسند بہر بن راشد اس غرض سے نقل کیا گیا ہے کہ ہمام کی روایت باعتبار ثقہ ہونے کے اعلیٰ درجے کی ثابت کی جائے۔ باب کی اس روایت میں ہمام اور حضرت حکیم بن حزام کے درمیان نہ صرف یہ کہ تین راوی ہیں بلکہ روایت کی سند بھی منقن ہے اور آخری حوالہ میں ابوالتیاح کا بیان ہے کہ میں ابوالخلیل کے ساتھ تھا۔ جب عبداللہ بن حارث نے حضرت حکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی۔ یہ روایت مفصل باب ۴۶ روایت نمبر ۲۱۱۴ میں دیکھئے۔ بعض شارحین نے نقره كَمْ يَجُوزُ الْخِيَارُ کا مفہوم لیا ہے کہ قابل خرید شئے پسند کرنے کا اختیار بوقت بیع تین دفعہ ہے اور اس کے لئے روایت نمبر ۲۱۱۴ کے الفاظ ثَلَاثَ مِرَار سے استدلال کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۴۱۳ )