صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 80
صحيح البخاری جلد ۴ ۸۰ ۳۴- كتاب البيوع فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُوْنُ الْبَيْعُ مشتری دونوں اس وقت تک اپنی خرید وفروخت میں خِيَارًا۔ قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اختیار رکھتے ہیں، جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں ، یا بیع اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ۔ میں (یہ) شرط ہو ( کہ وہ فتح کی جاسکتی ہے۔) نافع نے کہا: اور حضرت ابن عمر جب کوئی شئے خریدتے جو انہیں پسند ہوتی تو وہ اس کے مالک سے جدا ہو جاتے ۔ اطرافه: ۲۱۰۹، ۲۱۱۱، ۲۱۱۲، ۲۱۱۳، ٢١١٦۔ ۲۱۰۸: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۲۱۰۸ : حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الخَلِيْلِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالخلیل عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمٍ (صالح بن ابی مریم) سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے، عبداللہ نے حضرت حکیم بن حزام حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے، ابْنِ حِزَامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِي حضرت حکیم نے بی صلی الہ علیہ و رقم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ آپ نے فرمایا: بائع او مشتری دونوں کو فتح بیچ کا اختیار بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ۔ وَزَادَ أَحْمَدُ ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں ۔ اور احمد (بن سعید حَدَّثَنَا بَهْرٍ قَالَ قَالَ هَمَّامٌ فَذَكَرْتُ داری) نے اپنی روایت میں اتنا بڑھا یا کہ بہر ذَلِكَ لِأَبِي التَّيَّاحِ فَقَالَ كُنْتُ مَعَ بن راشد ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمام کہتے تھے کہ میں نے اس (حدیث ) کا ابوالتیاح سے ذکر کیا أَبِي الْخَلِيْلِ لَمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ تو انہوں نے کہا: میں ابوالخلیل کے ساتھ ہی تھا جب الْحَارِثِ هَذَا الْحَدِيثَ ۔ اطرافه: ۲۰۷۹ ، ۲۰۸۲، ۲۱۱۰، ۲۱۱۴۔ عبداللہ بن حارث نے یہ حدیث ان سے بیان کی ۔ تشریح : كَمْ يَجُوزُ الْخِيَارُ: یہاں سے چ وشاء کے بار راء کے بارے میں ایسے مسا ایسے مسائل شروع ہیں جن کا تعلق صحت بیچ --- -- سے ہے۔ باب ۱۹ کی تشریح میں پانچ شرطیں بیان کی جاچکی ہیں جن میں سے پانچویں شرط یہ ہے کہ مشتری خرید کردہ شئے اپنے قبضہ میں لے کر بائع سے الگ ہو جائے۔ تا وقتیکہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں دونوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ کسی نقص یا قیمت کے کم و بیش ہونے کی وجہ سے عقد بیع فسخ کر دیں۔ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا : الْبَيْعُ عَنِ الْبَائِعُ كَضَيْقٍ وَضَائِقٍ وَصَيْنٍ وَصَائِنِ۔ الفاظ بائع اور بیع کے معنے فروخت کرنے والا اور خریدنے والا دونوں پر یہ لفظ اطلاق پاتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ری جزء ۴۰ صفحہ ۴۱۳) اور اس جملے