صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 79 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 79

صحيح البخاری جلدم 29 بَاب ٤١ : صَاحِبُ السِّلْعَةِ أَحَقُّ بِالسَّوْمِ تجارتی سامان کا مالک زیادہ حقدار ہے کہ وہ قیمت مقرر کرے ۳۴- كتاب البيوع ٢١٠٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۲۱۰۶ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عبد الوارث بن سعید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ابو التیاح سے ، ابوالتیاح نے حضرت انس رضی اللہ عنہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بَنِي النَّجَّارِ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ وَفِيْهِ خِرَبٌ نے فرمایا: اے بنی نجار! اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے طے کر لو اور اُس میں کچھ کھنڈر اور کچھ کھجوروں وَنَخْلٌ۔کے درخت تھے۔اطرافه ،۲۳٤ ، ،٤۲۸ ٤٢٩، ۱۸۶۸، ۲۷۷۱، ۲۷۷۴، ۲۷۷۹، ۳۹۳۲ تشریح : صَاحِبُ السِّلْعَةِ اَحَقُّ بِالسَّوْمِ: فقہاء اس بارے میں متفق ہیں کہ سامان تجارت کا مالک قابل فروخت شے کی قیمت مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے کیونکہ وہی بہتر جانتا ہے کہ منڈی میں لانے کے لئے اُسے کتنی محنت کرنی پڑی۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحہ۴۱۲) لیکن مسئلے کا یہ پہلو بطور مقدم حق کے ہے اور اس کے یہ معنی نہیں کہ خریدار جو منڈی کے نرخ وغیرہ سے بھی واقف ہے، اُسے اندازہ قیمت کرنے کا کوئی حق نہیں۔حضرت جابر کے واقعہ (مذکورہ باب ۳۴ روایت نمبر ۲۰۹۷) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مشتری تھے اور آپ نے ہی اونٹ کی قیمت تجویز فرمائی۔نرخ مقرر کرنے میں دونوں صورتیں جائز ہیں۔روایت نمبر ۲۱۰۶ کی تفصیل کے لیے کتاب الصلوۃ باب ۴۸ روایت نمبر ۴۲۸ دیکھئے۔بَابِ ٢ ٤ : كَمْ يَجُوْزُ الْخِيَارُ؟ خرید وفروخت میں اختیار کی مدت کتنی ہے؟ ۲۱۰۷: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا :۲۱۰۷ صدقہ (بن فضل ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عبد الوہاب نے ہمیں خبر دی، کہا: میں نے بھی بن سعید سَعِيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے نافع سے سنا۔انہوں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بائع اور