صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 78 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 78

صحيح البخاری جلد ۴ ZA ۳۴- كتاب البيوع مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہ ام المومنین اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت عائشہ نے بتایا فِيْهَا تَصَاوِيْرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا ، جس میں تصویریں تھیں۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھا تو فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهَةَ دروازے پر کھڑے رہے اور اندر نہ آئے۔میں نے فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَتُوْبُ إِلَى اللهِ آپ کے چہرے سے ناپسندیدگی کا اثر محسوس کیا۔وَإِلَى رَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ قُلْتُ تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور تو بہ کرتی ہوں۔میں نے کیا قصور کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسے آپ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا کے لئے خریدا ہے کہ آپ اس پر بیٹھیں اور تکیہ لگائیں۔فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات سن کر ) إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فرمايا: إن تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے يُعَذِّبُوْنَ فَيُقَالُ لَهُمْ أَحْرُوْا مَا خَلَقْتُمْ دن سزادی جائے گی اور اُن سے کہا جائے گا: جو تم نے وَقَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيْهِ الصُّوَرُ بنایا ہے اس میں جان بھی ڈالو۔اور فرمایا: وہ گھر جس میں تصویریں ہوں ملائکہ اس میں داخل نہیں ہوتے۔لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ۔اطرافه ۳۲۲٤، ۵۱۸۱، ۵۹۵۷، ٥٩٦١، ٧٥٥۔تشریح: باب نمبر ۳۹ ۴۰ کی تشریح کے لیے دیکھئے تشریح باب ۳۸۔یہ دونوں ابواب بھی اسی ضمن میں ہیں۔نیز روایت نمبر ۲۱۰۲ ۲۱۰۳ کے تعلق میں کتاب الاجارة باب ۱۸دیکھئے اور روایت نمبر ۲۱۰۴، ۲۱۰۵ کے تعلق میں کتاب اللباس باب ۲۵ لبس الحریر دیکھئے اور مصوری کے جواز یا عدم جواز کے تعلق میں کتاب البیوع باب ۲۵ روایت نمبر ۶ ۲۰۸ دیکھئے۔