صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 74 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 74

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ نے کہا: غزوہ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم { فَأَعْطَاهُ يَعْنِي دِرْعًا} فَبِعْتُ الدَّرْعَ کے ساتھ ہم نکلے۔{ تو آپ نے انہیں ایک زرہ دی۔میں نے وہ زرہ بیچ دی اور اُسے بیچ کر بنی سلمہ کے محلے میں ایک باغ خریدا اور وہ پہلی جائیداد ہے جو فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ۔اطرافه: ٣١٤٢، ٤٣٢١، ٤٣٢٢، ٧١٧٠۔میں نے اسلام میں اپنے لئے بطور سرمایہ حاصل کی۔تشريح : بَيْعَ السَلَاحِ فِي الْفِتْنَةِ وَغَيْرِهَا : بعض اوقات قابل فروخت شے کی ذات و ناقص نہیں ہوتی تو مگر بتقاضائے حالات اُس کی فروخت ناجائز ہوتی ہے۔عنوانِ باب میں حضرت عمران بن حصید کا حوالہ یہی صورت بیان کرنے کی غرض سے دیا گیا ہے۔الفتنة سے مراد جنگ، بغاوت اور بدامنی وغیرہ ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں نمودار ہوئی اور اس کا سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا۔ایسے وقت میں اسلحہ کی فروخت فتنہ و فساد جاری رہنے میں ایک قسم کی امداد ہے اور ارشاد باری تعالیٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدة:٣) اور گناہ اور زیادتی ( کے کاموں ) میں تعاون نہ کرو۔} کے خلاف۔عنوانِ باب میں لفظ وَغَيْرِها سے ایک اختلاف کی طرف اشارہ ہے جو امام مالک اور دوسرے ائمہ میں ہوا ہے۔امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک ختنہ ہی کی خصوصیت نہیں بلکہ شراب کشی کی غرض سے انگور خرید نے والے کے ہاتھ انگور بیچنا بھی جائز نہیں۔ان کی رائے میں ایسی بیع بھی قابل فسخ ہے؛ کیونکہ یہ گناہ سے تعاون ہے۔اس فتویٰ کے خلاف امام ثوری کا فتوی ہے۔بع حَلالَكَ مِمَّنْ شَفْتَ - یعنی حلال شئے جسے چاہو بیچو۔اس تعلق میں بعض فقہاء کا یہ قوی بھی ہے کہ اگر یہ واضح ہو کہ بغاوت میں ایک فریق مظلوم ہے تو اُس کے ہاتھ اسلحہ فروخت کیا جا سکتا ہے۔( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۴۰۸) كَرِهَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بَيْعَهُ فِي الْفِتْنَةِ : حضرت عمران بن حصین کا واقعہ الکامل میں ابن عدی سے موصولاً منقول ہے۔(الکامل، من اسمه محمد، جزء ۶ صفحه ۲۶۵ روایت ۱۷۴۷) (المعجم الكبير للطبرانی، ما أسند عمران بن حصين، عبد الله اللقيطى عن ابي رجاء، روایت نمبر ۲۸۶ جزء ۸ صفحه ۱۳۶) فَأَعْطَاهُ يَعْنِي دِرُعًا : حضرت ابو قتادہ نے غزوہ حنین کے موقع پر ایک حربی کا فر کو قتل کیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کی زرہ انہیں دی جو بعد میں انہوں نے مدینہ میں آکر اس کے عوض کھجور کے چند درخت خریدے۔ان کی خرید وفروخت ایسے زمانے کی تھی جو امن کا تھا اور جس کے ہاتھ وہ زرہ بیچی گئی، وہ یہودی اور حربی تھا۔الفاظ فَأَعْطَاهُ يَعْنِی دِرُعًا عمدۃ القاری کے مطابق ہیں (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۱۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔