صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 84 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 84

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٤ - كتاب الزكاة الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ ہاں ۔ آپ نے فرمایا: سمندروں کے پار بھی رہ کر اس شَيْئًا ۔ اطرافه: ٢٦٣٣، ٣٩٢٣، 6165۔ پر عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ ہرگز تمہارے کسی عمل کا ثواب کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ تشریح : زَكَاةُ الإِبل: عنوان باب میں حضرت ابو بکر کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مفصل روایت نمبر ۱۴۵۳ میں مذکور ہے۔ حضرت ابوذر کی روایت نمبر ۱۴۶۰ اور حضرت ابوہریرہ کی روایت کے لیے باب نمبر ۳ دیکھا جائے۔ حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت کا حوالہ نمبر ۱۴۶۰ کے آخر میں بھی دیا گیا ہے۔ ان روایتوں میں اونٹوں کی زکوۃ نکالنے کی کی صراحت صراحت اور اور نہ دینے پر سزا کا ذکر ہے۔ صدقہ و زکوۃ سے متعلقہ روایات پر اصولی تبصرہ کرنے ۔ کے بعد امام بخاری نے قابل زکوۃ اموال کا ذکر نوع اور جنس وار کیا ہے۔ روایت نمبر ۱۴۵۲ میں حضرت ابو سعید خدری کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ امام احمد بن حنبل نے بھی نقل کی ہے اور اُس کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ لَهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ وَيُحَكَ إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَّكَ مِنْ ابِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تُؤَدِّى صَدَقَتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا قَالَ نَعَمُ قَالَ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا۔ (مسند احمد بن حنبل، جزء ۳۰ صفحه۱۴) امام بخاری کی منقولہ روایت کے الفاظ کو مختلف ہیں مگر مفہوما ایک ہی ہیں۔ باب ۳۷ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جس کے ذمہ زکوۃ ایک برس کی اونٹنی ہو جائے اور اس کے پاس وہ نہ ہو ١٤٥٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۴۵۳: محمد بن عبداللہ (انصاری) نے ہم سے قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ أَنَّ بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ انہوں نے کہا: تمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ فَرِيضَةَ انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتلایا کہ حضرت ابوبکر الصَّدَقَةِ الَّتِي أَمَرَ اللهُ رَسُوْلَهُ صَلَّى رضی اللہ عنہ نے اُن کو وہ صدقہ فریضہ لکھ کر دیا ، جس کا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے۔ الْإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ اور اس میں یہ بھی تھا جس کے پاس اتنے اونٹ ہو