صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 85 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 85

صحيح البخاري - جلد۳ ۸۵ ٢٤ - كتاب الزكاة جَدَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ جائیں کہ چار برس کی اونٹنی ان کی زکوۃ ہو اور اُس الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو مگر اس کے پاس تین اسْتَيْسَرَنَا لَهُ أَوْ عِشْرِيْنَ دِرْهَمَا وَمَنْ برس کی اونٹنی ہو تو اس سے وہی لے لی جائے اور وہ اُس کے ساتھ دو بکریاں بھی دے، اگر اس کے لئے بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ وہ میسر ہوں یا بیس درہم دے اور جس کے ذمہ زکوۃ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تین برس کی اوٹنی ہو جائے مگر تین برس کی اونٹنی اس تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَدَعَةُ وَيُعْطِيْهِ الْمُصَدِّقُ کے پاس نہ ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی ہو تو عِشْرِيْنَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ وہی اس سے لے لی جائے اور محصل زکوۃ اس کو بیس عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا درہم یا دو بکریاں دے اور جس کے ذمہ زکوۃ تین بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونِ برس کی اونٹنی ہو جائے مگر اس کے پاس صرف دو ہی وَيُعْطِي شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِيْنَ دِرْهَما برس کی اوٹنی ہو تو اس سے دو ہی برس کی اوٹنی لے لی وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُوْنٍ وَعِنْدَهُ جائے اور وہ دو بکریاں یا بہیں درہم دے اور جس کی حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيْهِ زَكوة دو برس کی اوٹنی ہو جائے اور اس کے پاس تین برس کی اونٹنی ہو تو تین ہی برس کی اونٹنی اس سے لے الْمُصَدِّقُ عِشْرِيْنَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ لی جائے اور محصل زکوۃ اس کو بیس درہم یا دو بکریاں وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُوْنِ دے اور جس کی زکوۃ دو برس کی اونٹنی ہو جائے اور وہ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضِ اس کے پاس نہ ہو اور اُس کے پاس ایک برس کی فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطِي اومنی ہو تو اس سے ایک برس کی اوٹنی لے لی جائے مَعَهَا عِشْرِيْنَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْن۔اور وہ اس کے ساتھ ہیں درہم یا دو بکریاں دے۔اطرافه : ١٤٤٨، ۱٤٥٠، ۱۴۰۱، ۱٤٥٤، ۱٤۰۰، ٢٤۸۷، ۳۱۰٦، ٥۸۷۸، ٦٩٥٥۔تشریح: مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ مَخَاضِ وَلَيْسَتْ عِندَهُ : اونٹوں اور بکریوں کا نصاب اور حق واجب کی تفصیل باب نمبر ۳۸ میں مذکور ہے۔اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس از روئے نصاب حق واجب سے زیادہ یا کم عمر کی اونٹنی یا بکری ہو تو محصل اس سے بڑی عمر کا جانور لے کر جو فرق ہو اُس کا اندازہ کر کے مالک جانور کو معاوضہ دے گا یا اگر اُس کے پاس کم عمر جانور ہوتو وہ محصل کو کمی بصورت نقد یا جانور دے کر فرق پورا کرے گا۔