صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 83
صحيح البخاری جلد ۳ - ۸۳ ٢٤ - كتاب الزكاة خلطت میں جہاں امتیاز کرنا ناممکن ہو۔جیسے آج کل کی کمپنیوں کی صورت ہے؛ جن کے سینکڑوں حصہ دار ہوتے ہیں۔اغراض زکوۃ کے لحاظ سے مشترکہ مال ایک شخص واحد کے مال کی حیثیت رکھے گا اور کمپنی ادائیگی زکوۃ کی ذمہ دار ہوگی۔بشرطیکہ مجموعی حیثیت میں وہ مال نصاب کے مطابق ہو۔حصہ دار افراد کے نصاب سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا اور تمام شرکاء اس زکوۃ میں بحصہ رسدی شریک ہوں گے۔جس کا وہ خود اپنے طور پر فیصلہ کریں گے۔حکومتیں بھی ٹیکس اسی طریق پر وصول کرتی ہیں۔لیکن جہاں شرکت کی ایسی صورت نہ ہو بلکہ ہر ایک کا مال الگ الگ حیثیت رکھتا ہو وہاں افراد پر ان کے نصاب کے مطابق زکوۃ عائد ہوگی۔غیر مسلم زکوۃ سے متقی ہوں گے۔اس کا بار صرف مسلمان شرکاء پر پڑے گا۔زکوۃ کے لئے سال کی مدت نصاب کا ضروری حصہ ہے۔یعنی مال خواہ بصورت چاندی سونا ہو یا بصورت نقدی یا سامان تجارت یا مال مواشی۔ایک سال تک قبضہ وملکیت میں رہے تو ان سب پر زکوۃ مطابق نصاب عائد ہوگی۔زرعی پیداوار میں مدت بجائے سال کے ہر فصل ہے۔بَابِ ٣٦ : زَكَاةُ الْإِبِلِ اونٹوں کی زکوۃ ذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو ذَرٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ حضرت ابوبکر ، حضرت ابوذر اور حضرت ابو ہریرہ رضی رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله الله عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے اللہ ہوئے اسے بیان کیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔١٤٥٢ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۱۴۵۲ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا کیا ، (کہا: ) ولید بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ (انہوں نے کہا: ) اوزاعی نے ہم سے بیان کیا، کہا: عَطَاءِ بْن يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ابن شہاب نے مجھے بتایا کہ عطاء بن یزید سے مروی الْخُدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا ہے۔انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سَأَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ ایک بدوی نے رسول اللہ صلی اللہ الْهَجْرَةِ فَقَالَ وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَهَا علیہ وسلم سے ہجرت کرنے کی بابت پوچھا۔آپ نے شَدِيدٌ فَهَلْ لَّكَ مِنْ إِبِلِ تُؤَدِّي فرمایا: ارے! وہ تو بہت مشکل کام ہے۔کیا تمہارے صَدَقَتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ پاس کچھ اونٹ ہیں جن کی تم زکوۃ دو؟ اُس نے کہا: