صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 82
صحيح البخاری جلد ۳ ۸۲ ٢٤ - كتاب الزكاة اس مواشی کی خرید و فروخت پر ہی تھا۔ اس لئے آپؐ نے اُن کا ذکر فرمایا ہے۔ ورنہ اصولی طور پر یہی تو پر یہی قانون ہر قسم کی شراکت پر اطلاق پاتا ہے۔ امام شافعی کے اس فتوئی پر احناف کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ جس مالک کا نصاب پورا نہیں ہوا، اسے از روئے شریعت زکوۃ لینا کیسے جائز ہے؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے زکوۃ وصول کرنے میں جہاں تک ممکن ہو نرمی اور رعایت برتنے کا حکم برتنے کا حکم دیا ہے۔ مذکورہ بالا طریق تحصیل میں گویا اس حکم کی بھی خلاف ورزی ہوگی ۔ نصاب کے متعلق حدود شریعت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی پابندی اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب مشتر کہ مال میں دیکھا جائے کہ آیا ہر شریک کا مال نصاب کے مطابق ہے یا نہیں۔ مذکورہ بالا فتووں اور اعتراضوں کی وجہ سے امام بخاری نے ایک فیصلہ پیش کیا ہے۔ ان کے مخصوص طریق استدلال کے مطابق یہ بات بہت قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک خلطت کا لفظ شرکت کی نسبت زیادہ وسیع ہے۔ شرکت میں حصہ داروں کے مالوں کا امتیاز نہیں رہتا۔ نصاب کا تعلق تو دراصل مالوں سے ہے۔ جب مال کی تعیین نہیں تو نصاب کی تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ۔ مشتر کہ مال ایک فرد واحد کا مال قرار دیا جائے گا۔ مگر خلطت کی بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں مالوں کا امتیاز کیا جا سکتا ہے۔ ایک ہی حدیث کو دو حصے کر کے دو الگ الگ عنوان قائم کرنے سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ خلیط شریک سے جدا حیثیت رکھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِع کا تعلق شراکت سے ہے۔ جس میں شرکاء کے مالوں کا امیتاز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن خلطت کی بعض صورتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جن میں ہر ایک شریک کا مال پہچانا جا سکتا ہے۔ جیسا بانا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ بھیڑ بکریوں وغیرہ کے ریوڑ میں ۔ ایسی صورت میں ہر ایک خلیط کا نصاب ملحوظ رکھنا ہوگا۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لئے طاؤس اور عطاء بن ابی ربائی کے فتوئی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ثانی الذکر بھی فقہائے مکہ میں سے چوٹی چوٹی کے فقیہوں میں شمار ہوتے ہیں اور طاؤس ، مجاہد کے ہم عصر اور تابعی ہیں۔ اٹھاسی برس کی عم عمر پائی اور ۱۱۵ھ میں فوت ہوئے۔ ان کے نزدیک جب خلطت کی ایسی صورت ہو کہ ہر ایک شریک اپنے ریوڑ کو پہچان سکتا ہو تو اس پر نصاب کے مطابق زکوۃ واجب ہو ہوگی ۔ لیکن اگر نہ پہچان سکے تو پھر ایسے مشتر کہ مال کو نہ ما کو نہ مالک (خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ) کم زکوۃ دینے اور نہ محصل کمی زکوۃ کا خیال کر کے زیادہ زکوۃ لینے کی غرض سے اکٹھے مال کو الگ کرے۔ عنوان باب میں سفیان ثوری کے فتوی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی جامع مسند میں لکھا ہے کہ عبید اللہ بن عمر سے خلیط کے معنی دریافت کرنے پر انہوں نے کہا: إِذَا كَانَ الْمَرَاحُ وَاحِدًا وَالرَّاعِى وَاحِدًا وَالدَّلْوُ وَاحِدًا - ( فتح البارى جزء٣ صفحه ۳۹۷) یعنی جب چراگاہ ایک ہو اور چرواہا ایک ہو اور ڈول یعنی آب رسانی کا انتظام ایک ہو۔ یہ ذکر کرنے کے بعد سفیان ثوری نے مذکورہ بالا فتوی دیا ہے یعنی اس صورت میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ اس کی بھی چالیس بکریاں پوری ہو جائیں اور اس کی بھی چالیس - قَوْلُنَا لَا يَجِبُ عَلَى الْخَلِيْطَيْنِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَتِمَّ لِهَذَا أَرْبَعِينَ وَلِهَذَا أَرْبَعِينَ ۔ ] (مصنف عبد الرزاق، كتاب الزكاة، باب الخليطين روایت نمبر ۱۸۳۹) اس فتوی کا حوالہ دینے سے بھی یہی امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ خلطت کی ایسی صورت میں جہاں مالوں کے درمیان امتیاز کیا جا سکتا ہو، ہر ہر ایک کے لئے نصاب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ امام بخاری نے حالات کے مطابق دونوں فتووں کو قبول کیا ہے۔ یعنی