صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 81 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 81

صحيح البخاری جلد۳ Al ٢٤ - كتاب الزكاة أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس نے انہیں كَتَبَ لَهُ الَّتِي فَرَضَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو وہ زکوۃ لکھ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيْطَيْنِ کردی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض کی تھی۔فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ۔(اس میں یہ ہے ) اور جو زکوۃ دو شریکوں کی ہو تو وہ آپس میں برابر کا حساب کر لیں۔اطرافه: ١٤٤٨، ۱٤٥٠، ۱۴۰۳، ۱۵، ۱٤٥٥، ۲٤۸۷ ۳۱۰٦، ٥۸۷۸، ٦٩٥٥۔تشریح: مَا كَانَ مِنْ خَلِيُطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَان بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّة: مذکورہ بالا عنوان أسى حدیث کے بقیہ الفاظ ہیں جس سے باب نمبر ۳۴ کا عنوان کیا گیا ہے۔پوری حدیث یوں ہے: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعِ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيْطَيْنَ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بالسويَّة۔(ابوداؤد، كتاب الزكاة، باب في زكاة السائمة) آخری حصہ حدیث کے مفہوم کے بارے میں فقہاء کے درمیان بہت اختلاف ہوا ہے۔اس بارے میں ان کے دو بڑے بڑے گروہ ہیں۔امام مالک اور امام ابوحنیفہ وغیرہ نے خلیط کے معنی مطلق شریک کے کئے ہیں اور یہ فتویٰ دیا ہے کہ شرکاء پر زکوۃ اس وقت واجب ہوگی جب ہر ایک کا مال نصاب تک پہنچ جائے۔مثلاً اگر ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں تو ان دونوں کی ۸۰ بکریوں پر ایک بکری زکوۃ ہوگی۔يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وه اس زکوۃ میں مساوی طور پر شریک ہوں گے۔ان میں سے جس نے ایک بکری دی ہے وہ اپنی بکری کی قیمت کا اندازہ کر کے نصف اپنے ساتھی سے وصول کر لے۔دوسرا گر وہ امام شافعی وغیرہ کا ہے۔ان کے نزدیک شراکت کا مال شخص واحد کے مال کی حیثیت رکھے گا اور مثلاً اگر دو شریکوں کی بکریاں ۴۰ تک پہنچ گئی ہوں تو ایک بکری زکوۃ اس مال پر واجب ہوگی بشر طیکہ ایک سال گزر جائے۔قطع نظر اس کے کہ ان میں سے زید یا بکر کی کتنی بکریاں ہیں۔گویا مشتر کہ مال پر مجموعی حیثیت سے زکوۃ واجب ہوگی۔خواہ ان میں سے ہر ایک کی ہیں بکریاں ہوں یا کم و بیش شرکت کی صورت ہو یا خلصت کی۔خلطة ان کے نزدیک یہ ہے کہ مختلف مالکوں کے ریوڑ ایک پاسبان کی زیر نگرانی ایک چراگاہ میں چرتے ہوں۔ایک گھاٹ سے پیتے ہوں اور ایک ہی باڑے میں رات بسر کریں اور شركة مالکانہ تصرف و نفع نقصان میں اتحاد کو کہتے ہیں۔دونوں صورتوں میں زکوۃ کا اطلاق ریوڑ کے مجموعہ پر ہوگا۔وہ (کتاب الام - زیر عنوان صدقة الخلطاء ) يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ۔ایسے دونوں قسم کے شریک باہمی حساب نہی سے اپنے اپنے حصہ کے مساوی ایک دوسرے سے قیمت منہالیں گے محصل زکوۃ کا اس سے کوئی سروکار نہیں کہ از روئے شریعت کس کا نصاب پورا ہے اور کس کا نہیں۔امام مالک نے اس فتویٰ میں اتفاق کیا ہے۔مگر اس کو صرف مواشی کی زکوۃ کے ساتھ محدود کیا ہے نہ عام مشترکہ اموال سے۔جو درست نہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عربوں کی تجارت کا زیادہ دار و مدار