صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 81
صحيح البخاری جلد ۳ M ٢٤ - كتاب الزكاة أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس نے انہیں كَتَبَ لَهُ الَّتِي فَرَضَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی بتایا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو وہ زکوۃ لکھ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيْطَيْنِ کردی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض کی تھی۔ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ۔ ( اس میں یہ ہے : ) اور جو زکوۃ دوشریکوں کی ہو تو وہ آپس میں برابر کا حساب کر لیں۔ اطرافه: ١٤٤٨، ١٤٥٠ ، 1453 ، 1454 ، 1455 ، ٢٤٨٧، ٣١٠٦، 5878، 6955۔ تشريح : مَا كَانَ مِنْ خَلِيْطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ : مذکورہ بالا عنوان أي حدیث کے بقیہ الفاظ ہیں جس سے باب نمبر ۳۴ کا عنوان لیا گیا ہے۔ پوری حدیث یوں ہے: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا يُفَرَّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيْطَيْنَ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بالسَّوِيَّةِ۔ (ابوداؤد، كتاب الزكاة، باب في زكاة السائمة) آخری حصہ حدیث کے مفہوم کے بارے میں فقہاء کے درمیان بہت اختلاف ہوا ہے۔ اس بارے میں ان کے دو بڑے بڑے گروہ ہیں۔ امام مالک اور امام ابو حنیفہ وغیرہ نے خلیط کے معنی مطلق شریک کے کئے ہیں اور یہ فتوی دیا ہے کہ شرکاء پر زکوۃ اس وقت واجب ہوگی جب ہر ایک کا مال نصاب تک پہنچ جائے ۔ مثلاً اگر ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں تو ان دونوں کی ۸۰ بکریوں پر ایک بکری زکوۃ ہوگی ۔ يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وہ اس زکوۃ میں مساوی طور پر شریک ہوں گے۔ ان میں سے جس نے ایک بکری دی ہے وہ اپنی بکری کی قیمت کا اندازہ کر کے نصف اپنے ساتھی سے وصول کرلے ۔ دوسرا گر وہ امام شافعی وغیرہ کا ہے۔ ان کے نزدیک شراکت کا مال شخص واحد کے مال کی حیثیت رکھے گا اور مثلاً اگر دو شریکوں کی بکریاں ۴۰ تک پہنچ گئی ہوں تو ایک بکری زکوۃ اس مال پر واجب ہو گی بشرطیکہ ایک سال گزر جائے ۔ قطع نظر اس کے کہ ان میں سے زید یا بکر کی کتنی بکریاں ہیں۔ گویا مشتر کہ مال پر مجموعی حیثیت سے زکوۃ واجب ہوگی۔ خواہ ان میں سے ہر ایک کی ہیں بکریاں ہوں یا کم و بیش شرکت کی صورت ہو یا خلطت کی۔ خِلطة ان کے نزدیک یہ ہے کہ مختلف مالکوں کے ریوڑ ایک پاسبان کی زیر نگرانی ایک چرا گاہ میں چرتے ہوں۔ ایک گھاٹ سے پیتے ہوں اور ایک ہی باڑے میں رات بسر کریں اور شركة مالکانہ تصرف و نفع نقصان میں اتحاد کو کہتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں زکوۃ کا اطلاق ریوڑ کے مجموعہ پر ہوگا۔ کتاب الام - زیر عنوان صدقة الخلطاء ) يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ ۔ ایسے دونوں قسم کے شریک باہمی حساب نہی سے اپنے اپنے حصہ کے مساوی ایک دوسرے سے قیمت منہا لیں گے۔ محصل زکوۃ کا اس سے کوئی سروکار نہیں کہ از روئے شریعت کس کا نصاب پورا ہے اور کس کا نہیں۔ امام مالک نے اس فتوی میں اتفاق کیا ہے۔ مگر اس کو صرف مواشی کی زکوۃ کے ساتھ محدود کیا ہے نہ عام مشتر کہ اموال سے۔ جو درست نہیں۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عربوں کی تجارت کا زیادہ دار و مدار