صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 79
صحيح البخاری جلد۳ 29 ٢٤ - كتاب الزكاة ١٤٥٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۱۴۵۰: محمد بن عبد اللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا، الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے ثُمَامَةُ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ کہا: تمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس رضی أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ الَّتِي الله عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فَرَضَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ان کو وہ (زکوۃ ) لکھ کر دی جو رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا علیہ وسلم نے فرض کی تھی۔(اس میں یہ بھی تھا ) اور يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعِ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ۔صدقہ ( کی ادائیگی ) کے خوف سے جو مال جدا ہو وہ اکٹھا نہ کیا جائے اور جو اکٹھا ہے وہ جدا نہ کیا جائے۔اطرافه: ١٤٤٨، ۱٤٥١، ۱۳، ۱۰، ۱٤۰۰، ۲۴۸۷، ۳۱۰۶، ٥۸۷۸، ٦٩٥٥ تشريح: لَا يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ : بھیڑ بکریوں کا نصاب زکو 6 ۳۰ سے کم ہوں تو معاف اور ۴۰ سے ۱۲۰ تک ایک بکری اور ۱۲۱ سے لے کر ۲۰۰ تک دو بکریاں اور ۲۰۱ سے لے کر ۳۰۰ تک تین بکریاں اور اگر اس سے اوپر ہوں تو ہر فیصدی پر ایک بکری۔تین شخص ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے پاس ۴۰ بکریاں ہوں تو ہر ایک پر ایک ایک بکری زکوۃ واجب ہوگی۔لیکن اگر وہ تینوں اپنی بکریوں کو اکٹھا کر کے ۱۲۰ بکریوں پر ایک بکری زکوۃ دینا چاہیں تو یہ جائز نہ ہوگا۔یہ جمع کرنے کی صورت ہے جو ممنوع ہے اور یہی مسئلہ باب نمبر ۳۴ کا عنوان ہے۔اگر دو شریک ہوں اور ان کے پاس ۲۲ بکریاں ہوں جن پر از روئے نصاب تین بکریاں زکوۃ ہوگی اور اگر وہ جدا ہوجائیں تو پھر ہر ایک کو ایک ایک بکری دینی ہوگی۔اس طرح ایک بکری کا فائدہ دونوں اُٹھا سکتے ہیں۔اکٹھے مال کو جدا کرنے کی یہ صورت ہے جو جائز نہیں۔خَشْيَةُ الصَّدَقَةِ سے یہی مراد ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے خوف سے انہیں اکٹھا یا الگ کر دیا جائے۔جیسا بکریوں کا مالک زیادہ زکوۃ دینے سے بچنے کی غرض سے یہ صورتیں اختیار کر سکتا ہے اور یہ جائز نہیں۔اسی طرح محصل زکوۃ کے لئے بھی جائز نہیں کہ دو بھائیوں کا مال جو جدا جدا ہو اور اس پر زکوۃ واجب نہ ہو؛ وہ ان کے مال کو مشترک قرار دے کر دونوں کو زکوۃ دینے پر مجبور کرے۔جدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر چالیس بکریاں ہوں۔میں ایک گاؤں میں بھیج دی جائیں اور میں دوسرے گاؤں میں اور ان پر زکوۃ نہ دی جائے۔علیحدہ کرنے کی یہ صورت بھی جائز نہیں۔لیکن اگر چاندی اور سونا ہر ایک اپنے نصاب سے کم ہو تو انہیں اکٹھا کر کے بموجب نصاب اس پر زکوۃ عائد ہوگی۔مثلاً اگر کسی کے پاس دس دینار (اشرفیاں) اور ایک صد درہم ہوں اور اگر دس درہم کی ایک اشرفی ہو تو جائز ہوگا کہ دس دینار کو یک صد در ہم شمار کر کے کل دوسو (۲۰۰) درہم پر چاندی کے نصاب ( ساڑھے باون تولہ ) کے حساب سے زکوۃ نکالی جائے یا چاندی کو سونے میں تبدیل کر کے سونے کے نصاب کے حساب سے زکوۃ دی جائے۔