صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 78
صحيح البخاری جلد ۳ ZA ٢٤ - كتاب الزكاة نصاب زکوۃ سے متعلق جو پروانہ حضرت ابو بکڑ نے لکھ کر دیا تھا اس میں اشیاء کے بدلے میں نقد ادا کرنے کا بھی ذکر ہے۔( روایت نمبر ۴ ۱۴۵) امام بخاری باوجود یکہ احناف کے ساتھ بعض مسائل میں اختلاف رکھتے ہیں اس بارے میں وہ اس حد تک اُن کے ساتھ متفق ہیں کہ عند الضرورت بدل بھی دیا جاسکتا ہے۔دو حوالے جو عنوان باب میں دئے گئے ہیں اور ان کے تحت جو دور روایتیں پیش کی گئی ہیں ان سے ضرورت مبادلہ کا پتہ چلتا ہے۔روایت نمبر ۱۴۴۹ میں الفاظ وَلَوْ مِنْ حُلِيكُنَّ نہیں ہیں۔اس مفہوم کی روایت کتاب العیدین ( روایت نمبر ۹۶۴) میں گزر چکی ہے۔اس میں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں۔مگر مسلم کی روایت میں محولہ بالا الفاظ ہیں۔(مسلم، کتاب الزكاة، باب فضل النفقة والصدقة) اور امام موصوف نے بطور تائید اس روایت کا حوالہ دیا ہے۔جیسا کہ روایت نمبر ۹۶۴ میں وضاحت ہے کہ یہ صدقہ فطر نہ تھا بلکہ مطلق صدقہ تھا جس میں زکوۃ شامل ہے، اس لئے عنوان باب میں امام موصوف نے فَلَمْ يَسْتَفْنِ کہہ کر شبہ کا ازالہ کیا ہے کہ تَصَدَّقْنَ کے حکم میں صدقہ فرض ( یعنی زکوۃ) اور صدقہ نفل میں تمیز نہیں کی گئی۔یہ حکم دونوں قسم پر شامل ہے۔جس کے پاس چاندی سونے کا زیور تھا، اس نے وہ دیا اور جس کے پاس ہار تھا، اس نے وہ دیا۔خُرص کے معنی کان کی بالیاں اور سخاب اس بار کو کہتے ہیں جو مشک اور لونگ وغیرہ کا بنا ہوا ہوتا تھا۔الفاظ وَلَوْ مِنْ حُلِيَكُن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا صدقہ ہے جس کا دیا جاناضروری ہے خواہ کسی صورت میں دیا جائے۔لله صلى الله قَالَ النَّبِيُّ عَليه وَأَمَّا خَالِدٌ: یہ روایت مفصل دیکھئے نمبر ۱۴۶۸ میں۔طاؤس کی روایت بطور تعلیق یعنی حوالہ ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۳۹۳) طاؤس بن کیسان ایک بہت بڑے پایہ کے تابعی اور فقیہ تھے۔مکہ مکرمہ میں ان کی وفات شاھ میں ہوئی۔عمرو بن دینار کی ان سے متعلق یہ شہادت ہے کہ میں نے ان جیسا عالم باعمل کوئی نہیں دیکھا۔روایت نمبر ۱۴۴۹ سے جو استدلال کیا گیا ہے، اس کے خلاف یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ اگر یہ صدقہ زکوۃ ہوتا تو نصاب اس میں ملحوظ رکھا جاتا۔اس کا جواب بھی امام بخاری نے ( عنوانِ باب کے ) آخری جملہ فَلَمْ يَخُصُّ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ مِنَ الْعُرُوضِ سے دیا ہے۔یعنی تَصَدَّقن کی تعمیل جس صورت و شکل سے کی گئی ہے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔خواہ کسی پر نصاب کے مطابق صدقہ واجب ہوتا تھایا نہیں۔آپ نے ہر حکم کی تعمیل میں سہولت مد نظر رکھی ہے۔باب ٣٤: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِع جو ( مال ) جدا جدا ہوں وہ اکٹھے نہ کئے جائیں اور اکٹھے کو جدا نہ کیا جائے وَيُذْكَرُ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اور سالم سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابن عمر صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح ( روایت کی۔) رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ۔