صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 77 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 77

صحيح البخاری جلد ۳ 22 ٢٤ - كتاب الزكاة أَوْ شَاتَيْنِ فَإِنْ لَّمْ يَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مگر دو برس کی اوٹنی ہو تو اس سے وہی لے لی جائے مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونِ اور زکوۃ وصول کرنے والا اسے ہیں درہم یا دو بکریاں فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ۔دے۔اگر اس کے پاس ایک برس کی اوٹنی جیسی چاہیے نہ ہو اور اس کے پاس نر اونٹ دو برس کا ہو تو وہی اس سے لے لیا جائے گا اور اسے کچھ دیا نہیں جائے گا۔اطرافه: ١٤٥٠، ١٤٥١، 1453، 1404، ١٤٥5، ٢٤٨٧، ۳۱۰٦، ٥۸۷۸، ٦٩٥٥۔١٤٤٩: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا :۱۴۴۹ مول ( بن ہشام) نے ہم سے بیان کیا، إِسْمَاعِيْلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ ) کہا : اسماعیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أَشْهَدُ سے روایت کی کہ عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے وہ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے تھے : حضرت ابن عباس نے کہا: میں رسول اللہ لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ م اللہ کے متعلق یہ گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے یقیناً يُسْمِع النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلَالٌ نَاشِرَ ثَوْبِهِ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ خطبہ سے پہلے (عید کی نماز پڑھی۔آپ نے دیکھا کہ عورتوں کو نہیں سنا سکے۔اس لئے آپ ان کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال تھے جو اپنا يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي وَأَشَارَ کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔آپ نے عورتوں کو أَتُوْبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ۔نصیحت کی اور ان سے فرمایا کہ صدقہ دیں تو کوئی عورت یہ چھینکنے لگی ( اور کوئی یہ ) اور ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔اطرافه ،۹۸ ،٨٦٣ ٩٦٢ ، ۹٦٤ ، ۹۷۰، ۹۷۷، ۹۷۹، ۹۸۹، ١٤۳۱، ٤٨٩٥ ٥٢٤٩، تشریح: ۷۳۲۵ ،۵۸۸۳ ،۵۸۸۱ ،۵۸۸۰ الْعَرْضُ فِى الزَّكَاةِ : زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مال کا جو حصہ شریعت نے مقرر کیا ہے، اگر وہ موجود نہ ہو یا مال میں سے الگ کر دینے کے بعد اس مال کو نقصان پہنچتا ہو یا ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں مشکلات ہوں تو اس کا معاوضہ بصورت قیمت یا اشیاء لیا جاسکتا ہے۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس قسم کا مبادلہ مطلق جائز ہے۔امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک ایسا جائز نہیں۔کیونکہ زکوۃ ان کے نزدیک بوجہ عبادت فرض عین ہے۔لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک مسکینوں کا حق ہے خواہ بصورت قیمت ادا کی جائے یا بصورت جنس۔(بداية المجتهد)