صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 76
صحيح البخاری جلد۳ 21 ٢٤ - كتاب الزكاة خَمِيْصٍ أَوْ لَبِيْسٍ فِي الصَّدَقَةِ مَكَانَ کی جگہ اور اشیاء دو۔کپڑے ہوں جیسے کالی دھاری الشَّعِيْرِ وَالدُّرَةِ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ وَخَيْرٌ دار چادریں یا کوئی اور کپڑا اور یہ تم پر بھی زیادہ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آسان ہوگا اور مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لئے بھی اچھا ہو گا۔بِالْمَدِينَةِ۔وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور خالد جو ہے اس وَأَمَّا خَالِدٌ فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ نے تو اپنی زر ہیں اور اپنا سامانِ جنگ اللہ تعالیٰ کی راہ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ۔میں وقف کر دیتے ہیں۔وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم عورتیں صدقہ کرو تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيَكُنَّ فَلَمْ يَسْتَثْنِ خواہ اپنے زیوروں میں سے ہی۔آپ نے فرض صَدَقَةَ الْفَرْضِ مِنْ غَيْرِهَا فَجَعَلَتِ صدقے (یعنی زکوۃ) کو دوسری چیزوں سے منتقلی الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا وَلَمْ نہیں کیا۔چنانچہ کوئی عورت اپنی بالی پھینکنے لگی اور کوئی يَخُصَّ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ مِنَ الْعُرُوضِ اپنے گلے کا ہار اور آپ نے سامانوں میں سے سونے اور چاندی کو مخصوص نہیں کیا۔أَنَسًا رَضِيَ رضِيَ ١٤٤٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۱۴۴۸ محمد بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةٌ أَنَّ میرے باپ ( عبد اللہ بن شنی ) نے مجھ سے بیان کیا۔اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْر انہوں نے کہا: مجھ سے ثمامہ ( بن عبد اللہ ) نے بیان اللهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ الَّتِي أَمَرَ الله کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رَسُوْلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو وہ ( زکوۃ ) لکھ کر بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ دی جس کا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُوْنٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ فرمایا تھا۔(اس میں یہ بھی تھا ) اور جس شخص کی زکوۃ مِنْهُ وَيُعْطِيْهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِيْنَ دِرْهَما ایک برس کی اونٹنی ہو اور وہ اُس کے پاس نہ ہو