صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 75 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 75

صحيح البخاری جلد ۳ ۷۵ ٢٤ - كتاب الزكاة گی۔بنک نوٹ پر اُن کی رائج الوقت قیمت کے حساب سے زکوۃ لی جائے گی۔کیونکہ وہ دراصل چاندی اور سونے کے قائم مقام ہیں اور حکومت وقت اس کی ضامن ہوتی ہے کہ وہ عند الضرورت نوٹوں کے بدلے میں چاندی یا سونا دے۔ایسا ہی وہ سکتے جن میں سونا، چاندی، تانبا، نکل و غیر مخلوط ہوں ان میں سونے چاندی کی اصل مقدار ملحوظ رکھی جائے گی۔اسی طرح مختلف ممالک کے ان سکوں میں بھی جو تجارتی اغراض کے لئے اکٹھے کئے جاتے ہیں زکوۃ ہوگی۔یہ سوال کہ آیا سونے چاندی کا زیور جو استعمال میں ہو اس پر زکوۃ ہے یا نہیں ؟ اس بارہ میں امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا فتویٰ ہے کہ ایسے زیور پر زکوۃ نہیں۔بلکہ اس سونے چاندی پر زکوۃ ہے جو ذ ریعہ کسب و تجارت ہو یا تحویل میں محفوظ ہو۔امام ابو حنیفہ اس فتویٰ کے خلاف ہیں اور انہوں نے زیر استعمال زیور کو بھی قابل زکوۃ قرار دیا ہے۔تا اُسے زکوۃ نہ دینے کا حیلہ نہ بنا لیا جائے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے بداية المجتهد، كتاب الزكاة، الجملة الثانية) آنحضرت ﷺ کا وعظ سن کر عورتوں نے جو زیور دیا۔وہ عام صدقہ کی صورت تھی نہ کہ زکوۃ۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۴۳۱) اگر سونے چاندی کا زیور استعمال میں نہ ہو تو اس کی حیثیت نقد مال کی سی ہوگی اور وہ ایک سال گزرنے پر قابل زکوۃ ہوگا۔امام موصوف نے عنوانِ با ۳۳ ۳۴ میں چاندی سونے اور زیورات پر زکوۃ کا ذکر نظرانداز کیا ہے۔غالباً اس کی وجہ مذکورہ بالا اختلاف ہے۔آیت أَنفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ (البقرة :۲۶۸) { جو کچھ تم کماتے ہو اس میں سے پاکیزہ چیزیں خرچ کرو } کی تشریح میں پہلے اموال ظاہرہ پر زکوۃ کے ابواب قائم کر کے متعلقہ روایات درج کی گئی ہیں۔اموال ظاہرہ اور اموال باطنہ اگر چہ فقہاء کی اصطلاحیں ہیں شرعی نہیں جن کا ذکر قرآن و حدیث میں ہو۔مگر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ قرآن مجید کے احکام اور خلفاء راشدین کے تعامل سے اس تقسیم کی مفہوما تصدیق ہوتی ہے۔(دیکھئے باب ۱۳۱۲) اموال ظاہرہ میں ہر وہ سرمایہ شامل ہوگا جس کا بآسانی حساب کیا جا سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص کو معین صورت میں مشاہرہ ملتا ہے یا کرایہ مکانات اور بسوں اور ٹیکسوں وغیرہ سے آمدنی ہوتی ہے یا بنکوں میں سرمایہ جمع ہے جہاں با قاعدہ حساب رکھا جاتا ہے۔یہ سب اور اسی طرح مویشی اور زرعی پیداوار، ہر تجارتی کاروبار کا نفع اور کانوں وغیرہ سے جو بر آمد ہو۔اموال باطنہ سے مراد ہر وہ متفرق آمدنی ہے جس کا حساب رکھنا اور اندازہ کرنا دقت طلب ہے۔سکونتی مکان، اثاث البیت اور قابل استعمال اشیاء وغیرہ خارج از زکوۃ ہیں اور سامان از قسم آلات اور کارخانہ جات کی عمارتیں بھی۔بَاب ٣٣ : الْعَرْضُ فِي الزَّكَاةِ زکوۃ میں (چاندی سونے کے سوا ) اور چیزیں لینا وَقَالَ طَاوُسٌ قَالَ مُعَاذْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اور طاؤس نے کہا: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے لِأَهْلِ الْيَمَنِ الْتُوْنِي بِعَرْضِ ثِيَابِ یمن والوں سے کہا کہ مجھے صدقہ میں جو اور جوار