صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 74 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 74

صحيح البخاری جلد۳ ۷۴ ٢٤ - كتاب الزكاة أَبَا سَعِيْدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ (يحي بن عمارہ) سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيْمَا دُونَ ابوسعید خدری سے سنا۔کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ مِنَ الْإِبِلِ وَلَيْسَ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ مہار اونٹ سے کم میں زکوۃ فِيْمَا دُوْنَ خَمْسٍ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ نہیں ہوتی اور پانچ اوقیہ (چاندی) سے کم میں زکوۃ فِيْمَا دُوْنَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ۔نہیں اور پانچ وسق سے کم (حاصلات زمین ) میں زکوۃ نہیں۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عبد الوہاب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: جی قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو سَمِعَ أَبَاهُ عَنْ أَبِي بن سعید نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمرو نے مجھے بتایا۔سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ انہوں نے اپنے باپ سے سنا کہ حضرت ابوسعید صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا۔(خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: ) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔اطرافه ١٤٠٥، ١٤٥٩، ١٤٨٤- تشریح: زَكَاةُ الْوَرِقِ : روایت نمبر ۱۴۴۷ زیر نمبر ۱۴۰۵ میں بھی گزر چکی ہے۔ان دونوں کے بیان میں تقدیم و تاخیر ہے۔لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، پانچ اوقیہ سے مراد چاندی ہے۔چونکہ مذکورہ بالا حدیث میں چاندی کا ذکر نہیں اس لئے دوسری روایتوں کی بناء پر عنوان باب میں اس کی تعیین کر دی گئی ہے۔مذکورہ بالا مقدار سے کم چاندی پر زکوۃ نہیں۔اس مقدار پر اس کا چالیسواں حصہ زکوۃ لی جائے گی۔یعنی دس ماشہ سات رتی چار چاول۔اگر چاندی کے ساتھ کوئی اور دھات ملی ہوئی ہو تو چاندی کا حساب کر کے مذکورہ بالا نصاب کے مطابق اس پر زکوۃ ہوگی۔چاندی کے مذکورہ بالا نصاب کی نسبت تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔(بداية المجتهد، كتاب الزكاة، الجملة الثالثة، الفصل الأول في المقدار الذي تجب فيه الزكاة من الفضة) ليكن بعض مالکی اس نصاب کے بارے میں دیگر فقہاء کے ساتھ اتفاق کرنے کے باوجود یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر پانچ اوقیہ سے خفیف سی کمی ہو تو وہ نظر انداز کی جاسکتی ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۳۹۲) مگر اس بارے میں جمہور کا مذہب ہی درست ہے۔چاندی تمام ملکوں میں علی العموم قدیم الایام سے معیاری سکہ مبادلہ اشیاء میں تسلیم کی گئی ہے اور اس کا نرخ کم و بیش ہوتارہتا ہے۔اس لئے نرخ رائج الوقت کے مطابق ۵ اوقیہ (ساڑھے باون تولہ چاندی کی رائج الوقت قیمت ہوگی۔جس کے پاس اتنی چاندی کی رائج الوقت قیمت سال بھر جمع رہے وہ اس کا چالیسواں حصہ زکوۃ دے گا۔یعنی اڑھائی فیصدی اور چاندی پر قیاس کر کے سونے کی زکوۃ نکالی جائے