صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 73
صحيح البخاری جلد ۳ ۷۳ ٢٤ - كتاب الزكاة تشريح : قَدْرُ كَمْ يُعْطَى مِنَ الزَّكَاةِ : اس باب میں نصاب زکو کی میت کا ذکر کرتا نصاب زکوة کی کمیت کا ذکر کرنا مقصود نہیں بلکہ ایک فقہی اختلاف مد نظر رکھ کر فتوی دیا گیا ہے۔ نصاب سے من متعلق تو اگلے ابواب میں مفصل ذکر آئے گا۔ حاصل شدہ زکوٰۃ اور صدقہ میں سے کس قدر کسی کو دیا جائے یہ فقرہ دلالت کرتا ہے کہ اس بارے میں کوئی اختلاف ہے۔ یعنی یہ کہ ساری زکوۃ یا صدقہ کسی ایک مستحق کو دیا جائے یا وہ تقسیم کیا جائے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْعَرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: (۲۰) ( صدقات تو محض محتاجوں اور مسکینوں اور اُن ( صدقات ) کا انتظام کرنے والوں اور جن کی تالیف قلب کی جا رہی ہو اور گردنوں کو آزاد کرانے اور چٹی میں مبتلا لوگوں اور اللہ کی راہ میں عمومی خرچ کرنے اور مسافروں کے لیے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فرض ہے اور اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور ) بہت حکمت والا ہے۔ اس آیت میں تصریح ہے کہ صدقات کسی قسم کے محتاجوں میں تقسیم کئے جائیں ۔ اس بناء پر فقہاء میں اختلاف ہوا ہے کہ نصاب کی مقدار آیا ایک ہی شخص کو دی جاسکتی ہے یا مذکورہ بالا محتاجوں میں سے بعض یا سب میں بانٹی جائے ۔ امام شافعی نے سب کو شریک کرنے کے بارے میں فتوی دیا ہے اور امام مالک وامام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے کہ وہ ایک یا ایک سے زیادہ قسم کے محتاجوں میں تقسیم کی جائے۔ البتہ البتہ امام امام ابو ابوحند حنیفہ نے صرف ایک شخص کو ہی : زکوة بمقدار نصاب دینا نا پسند کیا ہے۔ جبکہ امام محمد بن حسن نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ اس فقہی اختلاف کی تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۳۹۰ نیز دیکھئے بداية المجتهد ، كتاب الزكاة، الجملة الخامسة، الفصل الأول، المسئلة الأولى هل يجوز ان تصرف جميع الصدقة الى صنف واحد) ط امام بخاری عنوان باب کے تحت جو روایت لائے ہیں اُس سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بکری بغیر تقسیم ایک کو دی گئی اور پھر اس نے ذبح کرنے کے بعد بطور تحفہ تقسیم کی۔ بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا۔ ۔ بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے گوشت سے کھایا ہے۔ عنوان باب میں وَمَنْ اَعْطَى شَاةً کا جواب اس لئے مقدر کر دیا گیا ہے کہ روایت مندرجہ سے از خود واضح ہے کہ مستحقین میں ایک کو صدقہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس بارے میں صدقہ و زکوۃ سے متعلق کوئی خاص پابندی نہیں کی جاسکتی۔ یہ حالات پر موقوف ہے۔ بَاب ۳۲ : زَكَاةُ الْوَرِقِ چاندی کی زکوة ١٤٤٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۴۴۷: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم سے يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ بیان کیا، کہا:) مالک نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن يَحْيَى الْمَازِنِي عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَمِعْتُ کي مازنی سے مروی ہے۔انہوں نے اپنے باپ