صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 70 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 70

۷۰ ٢٤ - كتاب الزكاة صحيح البخاری جلد ۳ تَعْفُو اَثَرَهُ: اس کے نشانِ قدم کو مٹاتا ہے۔ نشانِ قدم سے مراد سابقہ غلط روی ہے۔ صدقہ بدیوں کے لئے کفارہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں نشان قدم سے مراد نتیجہ عمل ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَ آثَارَهُمْ ۔ (یسین : ۱۳) یعنی جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے تھے ہم ان کے نتائج محفوظ رکھتے ہیں۔ تُخْفِي بَنَانَهُ سے مراد یہ ہے کہ اس کے ہاتھ سے اگر کوئی براعمل ہو گیا ہو تو صدقہ اس کو بھی چھپا دے گا۔ مثال کا مفہوم عام ہے اور سابقہ باب کے مضمون کے عین مطابق ۔ قرآن مجید میں اسی طوق بخل کے بدنتائج کا ذکر کیا گیا ہے جو دنیا میں بخیل انسان کو انفاق فی سبیل اللہ سے روکتے ہیں ؟ فرماتا ہے: وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا أَتَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ ط بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلَّهِ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (آل عمران:۱۸۱){ اور وہ لوگ جو اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے اُن کو اپنے فضل سے عطا کیا ہے ؟ کو اپنے فضل سے عطا کیا ہے، ہرگز گمان نہ کریں کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ تو ان کے لیے بہت برا ہے جس ( مال ) میں انہوں نے بخل سے کام لیا قیامت کے دن ضرور وہ اس کے طوق پہنائے جائیں گے۔ اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی میراث ہے۔ اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔} باب ۲۹ : صَدَقَةُ الْكَسْبِ وَالتِّجَارَةِ کسب اور تجارت ( کے مال ) میں سے صدقہ دینا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مومنو! عمدہ چیزیں جو تم مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ { * وَمِمَّا نے کمائی ہیں، ان سے خرچ کرو { اور ان چیزوں سے اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ } بھی جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے پیدا کی ہیں تیم إِلَى قَوْلِهِ: أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ۔ اللہ بے نیاز ( اور ) بہت قابل تعریف ہے۔ (البقرة : ٢٦٨) تشريح : صَدَقَةُ الْكَسْبِ وَالحِجَارَةِ : عیب سے مراد تکاری ہے۔ اقسام الموال زکوة کی تفصیل دینے سے پہلے قرآن مجید کی اس آیت سے مستقل باب قائم کیا ہے جو صدقات کے تعلق میں بطور اصل الاصول کے ہے۔ صنعت و حرفت سے پیدا کردہ اشیاء پر بھی زکوۃ ہے اور زمین کی پیداوار پر بھی اور تجارت پر بھی ۔ اگر چہ تجارت کسب حلال ہی کی ایک شکل ہے۔ لیکن چونکہ لفظ کسب سے ذہ لفظ کسب سے ذہن اس کی طرف منتقل نہیں ہوتا ، ہوتا ، اس لئے عنوان باب میں اس کا الگ ذکر کیا گیا ہے اور بعض روایتوں میں آیت مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ کی تشریح بحوالہ مجاہد تجارت کی گئی ہے۔ غالباً امام موصوف نے عنوانِ باب میں ان روایتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۳۸۸) عنوان باب فی ذاتہ مستقل ہے۔ لیکن اپنی تشریح و تفصیل کے لئے متعدد عنوانوں اور روایتوں کا متقاضی ہے۔ اس لئے یہاں اس کے ضمن میں کسی روایت کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ چونکہ امام موصوف کو اس بارے میں یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں ( فتح الباری مطبوعہ انصاریہ دہلی - جزء 1 صفحہ ۳۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔