صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 69 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 69

صحيح البخاری جلد۳ ۶۹ ٢٤ - كتاب الزكاة وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَأَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا يُرِيْدُ أَنْ اتنا لمبا ہو جاتا ہے کہ اس کی انگلیوں کو چھپالیتا ہے اور تُنْفِقَ شَيْئًا إِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا اِس کے پاؤں کا نشان مٹاتا ہے اور بخیل جو ہے تو وہ جس وقت بھی خرچ کرنا نہیں چاہتا تو ہر حلقہ اپنی اپنی فَهُوَ يُوَسِعُهَا وَلَا تَتَّسِعُ۔جگہ پر چمٹ کر رہ جاتا ہے۔وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا۔تَابَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عبد اللہ بن طاؤس کی طرح حسن بن مسلم نے طاؤس سے دو بجبتوں سے متعلق یہی روایت بیان کی۔فِي الْجُبَّتَيْنِ اطرافه: ۱٤٤٤ ، ۲۹۱۷، ۵۲۹۹، ۵۷۹۷ ١٤٤٤ : وَقَالَ حَنْظَلَةُ عَنْ طَاوُسٍ :۱۴۴۴ اور حنظلہ نے طاؤس سے لفظ دو زر ہیں جُنَّتَانِ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ عَنِ نقل کیا اور لیث بن سعد) نے کہا: جعفر نے ابْن هُرْمُزَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ ( عبد الرحمن ) بن ہرمز سے روایت کرتے ہوئے مجھے اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بتایا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو زر ہیں روایت کرتے سنا۔وَسَلَّمَ جُنَّتَانِ۔اطرافه: ۱٤٤٣ ، ۲۹۱۷، ۵۲۹۹، ۵۷۹۷ تشریح ے تم ا تم کو مَثَلُ الْمُتَصَدِقِ وَالْبَحْيل : آيت مندرجہ باب نمبر ۲۸ کا مضمون آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں تمثیلاً واضح کیا گیا ہے۔نیکی ابتدا میں ہر شخص کے لئے عموماً مشکل ہوتی ہے طبعی شہوات و میلانات کے غلبہ کی وجہ سے۔لیکن جوں جوں انسان نیک عمل کرتا رہتا ہے نیکی کی راہ اس کے لئے آسان ہوتی جاتی ہے اور نیک نتائج اس کے لئے اور بھی انشراح صدر اور سہولت پیدا کر دیتے ہیں۔لیکن اگر انسان ابتداء میں کوئی قدم نہیں اٹھاتا تو وہ ایک عضو معطل کی طرح ہو جاتا ہے۔رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتان : مذکورہ بالا روایت کے آخر میں حسن بن مسلم اور حنظلہ کے جو حوالے دئے گئے ہیں وہ کتاب اللباس میں منقول ہیں۔اس کی بعض سندوں میں جُبَّتَینِ کی جگہ جنتیں ہے یعنی لوہے کی زیر ہیں۔مذکورہ بالا مثال اس قانونِ الہی کو واضح طور پر نمایاں کرتی ہے جس کا تعلق قدرت عمل سے ہے۔باب نمبر ۴ کی روایت نمبر ۱۴۰۷ میں بھی اسی قسم کی ایک تمثیل عقاب اخروی کے بارے میں گزر چکی ہے۔نیز دیکھئے کتاب الایمان روایت نمبر ۴۷، باب نمبر ۳۵ جہاں رائی برابر نیکی کا بدلہ احد پہاڑ جتنا تمثیلاً بیان کیا گیا ہے اور باب ۴۳ کتاب الزکوۃ کے عنوان میں مذکور تمثیل کا مفہوم بحوالہ آیت کریمہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اس سے مراد صدقہ نہ دینے والے کی حالت حالت درد و کرب ہے۔اس تعلق میں دیکھئے روایت نمبر ۱۴۷۴۱۴۶۰۔