صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 67 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 67

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۷ ٢٤ - كتاب الزكاة ( یعنی عدم نفاذ ) کا ذکر ہے اور یہ تینوں باتیں الگ الگ محرک میں صدقات کی حسن ادائیگی میں یا نقص ادائیگی میں۔یہ آیت اس شخص پر بھی صادق آتی ہے جس کے مال سے صدقہ دیا جاتا ہے اور ان لوگوں پر بھی جن کے ذریعہ سے صدقہ دیا جا سکتا ہے۔تقویٰ سخاوت نفس، دیانت وامانت اور رغبت خیر ، دونوں قسم کے شخصوں کے لئے عمل صالح میں سہولتیں پیدا کر دیتی ہیں اور اس کے برعکس تنگ ظرفی، حرص بخل اور نیکی سے بے رغبتی اور لا پرواہی کا ہر خیر کو کٹھن بنادیتی ہیں۔بلکہ ایسے اخلاق تو انسان کو نیکی سے کلیۂ محروم کر دیتے ہیں۔عنوان باب میں آیت محولہ بالا کی تشریح کے لئے ایک حدیث کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے الفاظ ایک روایت کے مطابق اَللّهُمَّ اَعْطِ مُنْفِقَ مَالِ خَلَفًا ہیں اور دوسری روایت کے مطابق اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا مَالًا خَلفًا ہیں۔دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔پہلی روایت جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے، ابن ابی حاتم نے بروایت حضرت ابو درداء مرفوعا نقل کی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: مَا مِنْ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ إِلَّا وَبِجَنُبَتَيْهَا مَلَكَان يُنَادِيَان يَسْمَعُهُ خَلْقُ اللهِ كُلُّهُمْ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمُ إِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَفَرَ وَالْهَى وَلَا غَرَبَتْ شَمْسٌ إِلَّا وَبِجَنَبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقَ مَالِ خَلَقًا۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفر ۴ ۳۸) گویا امام موصوف نے آیت محولہ بالا کی مناسبت سے اس روایت کے باقی الفاظ رڈ کرتے ہوئے اس کی صحیح صورت پیش کی ہے۔آیت کا موضوع یہ ہے کہ بعض کے لئے سہولتیں ہم پہنچیں گی اور بعض کے لئے دشواریاں اور حدیث سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کے ذریعہ سے اپنی اس مشیئت کو نافذ کرتا ہے جو لوگ انفاق فی سبیل اللہ میں تنگدستی سے نہیں ڈرتے، اللہ تعالیٰ ان کے مال میں برکت پر برکت دیتا ہے اور جو لوگ اس سے ہاتھ کھینچتے ہیں ملائکہ کے ذریعہ سے ان کے لئے بیسیوں ایسے مواقع پیدا کر دیتا ہے جن میں ان کا وہ مال جس کے فی سبیل اللہ خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے یونہی رائیگاں چلا جاتا ہے۔مثلاً اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کے لئے ایک روپیہ نکالنے میں بخل کیا تو بیماری میں اس کے دس خرچ ہو جاتے ہیں۔ایسے واقعات کثرت سے مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں جن سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہماری اقتصادیات کا انتظام ملکی تصرفات کے تحت ہے۔آج سے تیرہ سو سال قبل صحابہ کرام نے بحیثیت جماعت ان ملکی تصرفات کی کھلی کھلی شہادت قائم کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے مفلس نہیں ہو جاتے۔بلکہ ان کے لئے ہر قسم کی سہولتیں پیدا کی جاتی ہیں اور آج پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت نے یہی شہادت دوبارہ قائم کی ہے۔سینکڑوں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں جو اپنی سابقہ اور موجودہ دو مختلف حالتوں کے نمونوں سے محولہ بالا آیت و حدیث کے مضمون کا مصداق نظر آتے ہیں۔وہ تنگدستی کے زمانہ میں خرچ کرنے والے تھے اور ہر طرح سے وہ اور اُن کی اولادیں خوشحال ہیں اور یہی مشیئت انہی تمام بندگانِ خدا کے لئے ہے۔مگر روحانی حقائق سمجھنے کے لئے روحانی بینائی کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا انْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ ) السبا : ۴۰) { اور جو چیز بھی تم خرچ کرتے ہو تو وہی ہے جو اُس کا بدلہ دیتا ہے اور وہ رزق عطا کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔اور فرماتا ہے: مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ