صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 66
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۶ بَاب :۲۷: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى ٢٤ - كتاب الزكاة فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنى وَكَذَّبَ بِالْحَى فَسَيَسرُهُ لِلْعُسْرية اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا (الليل: ٦-١١) جس نے دیا اور تقوی اختیار کیا اور اچھی باتوں کی تصدیق کی ہم اس کیلئے سہولتیں پیدا کر دیں گے اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہی کی اور اچھی باتوں کو جھٹلایا ؟ ہم اس کے لئے مشکلات پیدا کر دیں گے۔اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقَ مَالٍ خَلَفًا۔اے اللہ ! مال خرچ کرنے والوں کو اس کا بدل دے۔١٤٤٢: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ :۱۴۴۲ اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بھائی (ابوبکر بن ابی اولیس) نے مجھے بتایا۔سلیمان ابْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ عَنْ ( بن بلال) سے مروی ہے کہ انہوں نے معاویہ بن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ابی مزرد سے، معاویہ نے ابو حباب (سعید بن لیسار ) سے، ابو حباب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ يَوْمٍ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی دن يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزَلَانِ بھی ایسا نہیں کہ جس میں دو فرشتے جبکہ بندے صبح کو فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا اُٹھتے ہیں نازل نہ ہوتے ہوں۔ان میں سے ایک خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا کر اور دوسرا کہتا ہے : بخیل کا مال رائیگاں جائے۔اللهم اَعْطِ مُنْفِقَ مَالِ خَلَفًا : سابقہ دو ابواب کی مناسبت سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔خادم، امین اور گھر کی مالکہ اگر بخیل و حریص اور تنگ ظرف ہوں یا دیانتدار نہ ہوں تو خرچ کرتے وقت وہ مختلف مُمْسكًا تَلَفًا۔تشریح: بہانوں سے ایسی حرکات کے مرتکب ہو سکتے ہیں جس سے صدقہ لینے والے کے لئے بدمزگی پیدا ہو۔مذکورہ بالا اشخاص کے ثواب صدقہ میں شریک ہونے کی طرف توجہ منعطف کرانے کے لئے امام موصوف نے ایسی آیت کریمہ سے باب باندھا ہے کہ جس میں ایک طرف سخاوت ، تقویٰ، تصدیق بالخیر ( یعنی عملاً نفاذ ) کا اور دوسری طرف بخل، حرص اور تکذیب بالخیر