صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 65
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۵ ٢٤ - كتاب الزكاة مِثْلُهُ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَهُ بِمَا سے کھلائے تلف کرنے والی نہ ہو تو اس کو اس کا اجر اكْتَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ۔ملے گا اور اُس کے خاوند کو بھی اسی طرح اور خزانچی کو بھی اسی طرح۔اس کے خاوند کو تو اس لئے کہ اُس نے کمایا اور عورت کو اس لئے کہ اُس نے خرچ کیا۔اطرافه ١٤٢٥ ، ۱٤۳۷ ، ۱٤۳۹، ١٤٤١، ٢٠٦٥۔رضِيَ ١٤٤١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى :۱۴۴۱ يحي بن سي نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ شَقِيْقٍ جرير بن عبد الحمید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور عَنْ مَّسْرُوْقِ عَنْ عَائِشَةَ اللہ سے، منصور نے شقیق سے شقیق نے مسروق سے، عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت قَالَ إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ غَيْرَ مُفْسِدَةٍ فَلَهَا أَجْرُهَا وَلِلزَّوْجِ بِمَا نے فرمایا: جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے خرچ اكْتَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ۔غَيْرَ مُفْسِدَةٍ فَلَهَا أَجْرُهَا وَلِلزَّوْحِ بِمَا کرے، ضائع کرنے والی نہ ہو تو اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اس کے خاوند کو بھی اس لئے کہ اُس نے کمایا اور امین ( خزانچی ) کو بھی ویسے ہی۔اطرافه ۱٤٢٥، ۱٤۳۷ ، ۱٤۳۹، ١٤٤٠، ٢٠٦٥ تشریح : أَجْرُ الْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ أَوْ أَطْعَمَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ باب نمبر ۲۶ کے عنوان سے ظاہر ہے کہ عورت کے لئے اجازت حاصل کرنا ضروری نہیں۔جائز طور پر خرچ کرنے کا حق بیوی کو حاصل ہے۔اس لئے اس کے جائز تصرف کی نوعیت خادم اور خازن کے تصرف سے جدا ہے۔وہ کسی مسکین کو کھانا کھلا سکتی ہے۔غلہ سے دے سکتی ہے۔بشرطیکہ ضائع کرنے کی نیت نہ ہو۔اس ضمن میں دیکھئے باب نمبر ۱۷ روایت نمبر ۱۴۲۵۔جیسا کہ مال کمانے میں عقل و محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسا ہی اس کے خرچ کرنے میں بھی عقل وحزم، دور اندیشی اور حسن تصرف کی ضرورت ہے۔بعض مستورات حماقت سے مال ضائع کر کے بجائے ثواب کے عتاب کی سزاوار ہوتی ہیں۔اسی لئے حدیث مندرجہ بالا میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ بر باد کرنے والی نہ ہو اور ایسی عورت کو جو عقلمندی سے اخراجات کا انتظام کرتے ہوئے اپنے خاوند کے مال سے صدقہ نکالتی ہے۔وہ ثواب میں اپنے خاوند کے ساتھ برابر کی شریک ٹھہرائی گئی ہے۔اس خزانچی کو ثواب ہو گا۔بشرطیکہ وہ بطیب خاطر اور مطابق حکم تعمیل کرنے والا ہو تو خزانچی بھی صدقہ دینے والا ہی ہے۔