صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 64
صحيح البخاری جلد۳ ۶۴ ٢٤ - كتاب الزكاة وقت وہ بھی اپنے نفس میں خوشی محسوس کرے اور بغض و حسد اور تنگ ظرفی اور خود غرضی سے پاک ہو اور وہ امین ہو۔جتنا دینے کا اسے حکم ہوا ہے وہ دے تو ایسا خادم بھی اپنے آقا کے ساتھ صدقہ کے ثواب میں شریک ہوگا۔بسا اوقات سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں دیکھا گیا ہے کہ افسران بالا کے ماتحت عملے میں سے بعض تو کسی کار خیر سے متعلق اپنے افسران کے احکام انشراح صدر سے نافذ کرتے ہیں اور بعض انقباض خاطر اور ترش روئی سے۔ان میں سے ایک تو اپنی خوش خلقی کی برکت سے ثواب میں شریک اور دوسرا بوجہ اپنی کج خلقی اس سے محروم ہو جاتا ہے۔باب ٢٦ أَجْرُ الْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ أَوْ أَطْعَمَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ عورت کو ثواب جب وہ اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ دے یا کھانا کھلائے ، تلف کرنے والی نہ ہو ١٤٣٩: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۱۴۳۹ آدم ( بن ابی یاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَالْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي (کہا : ) شعبہ نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا:) وَائِلٍ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ منصور بن معتمر ) اور اعمش نے ہمیں بتایا۔انہوں ( اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ابووائل سے، ابووائل نے مسروق سے،مسروق وَسَلَّمَ تَعْنِي إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔حضرت بَيْتِ زَوْجِهَا۔عائشہ کی بات کا مفہوم یہ تھا کہ جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ دے۔اطرافه ١٤٢٥، ١٤٣٧، ١٤٤٠، ١٤٤١، ٢٠٦٥۔١٤٤٠: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۱۴۴۰: عمر بن حفص نے (بھی) ہمیں بتایا۔( کہا :) حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيْقٍ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله ہمیں بتایا۔انہوں نے ( ابو وائل ) شقیق سے، شقیق عَنْهَا قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ وَسَلَّمَ إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ عنہا سے روایت کی۔کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ لَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ نے فرمایا: جب عورت اپنے خاوند کے گھر