صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 63
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۳ ٢٤ - كتاب الزكاة اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا عورت اپنے خاوند کی خوراک میں سے صدقہ کرے۔ أَجْرُهَا وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ تلف کرنے والی نہ ہو تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور اس کے خاوند کو بھی۔ کیونکہ اس نے کمایا ہے اور خزانچی کو وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ۔ بھی ایسا ہی۔ اطرافه ١٤٢٥، ١٤٣٩، ١٤٤٠ ، 1441، ٢٠٦٥۔ ١٤٣٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۱۴۳۸: محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید بن عبداللہ الرقم اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ سے، برید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابوموسی سے، حضرت رت ابو موسیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و وسلم الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْأَمِينُ الَّذِي يُنْفِذُ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا کہ خزانچی وہ امین وَرُبَّمَا قَالَ يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلا مسلمان ہے جو نافذ کر دے اور بھی ( راوی نے یہ ) مُوَفَّرًا طَيِّبًا بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي کہا: پورے کا پورا دیدے جس (کے دینے) کا اُسے حکم دیا گیا ہے۔ اس کا نفس اس دینے سے خوش ہو اور أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ۔ اس کو دے جسے دینے کا اُسے حکم ہوا ہے تو وہ بھی اطرافه: ٢٢٦٠، ٢٣١٩۔ صدقہ کرنے والوں میں سے ہی ( شمار ) ہوگا۔ تشريح : أَجْرُ الْخَادِمِ إِذَا تَصَدَّقَ بِأَمْرِ صَاحِبِهِ غَيْرَ مُفْسِدٍ: فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ آیا خادم اپنے مالک کے مال سے صدقہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ ایسا ہی بیوی کے متعلق بھی۔ بعض کا خیال ہے کہ یہاں صدقے سے اس کے عیال پر اور اس کے اپنے کاروبار پر خرچ کرنا مراد ہے اور بعض نے خادم اور بیوی کے درمیان تمیز کی ہے۔ امام بخاری بھی اسی مذہب کی تائید میں معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے دو باب الگ الگ قائم کئے ہیں۔ باب نمبر ۲۵ میں خادم سے متعلق دو شرطوں کا ذکر نمایاں طور پر کیا گیا ہے۔ اوّل مالک کا اذن اور دوم مال ضائع نہ کرنا۔ روایت نمبر ۱۴۳۸ نقل کر کے ثواب صدقہ میں خادم کے شریک ہونے کی وجہ واضح کی گئی ہے کہ اگر صدقہ در ا دیتے