صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 62 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 62

صحيح البخاری جلد ۳ بَاب ٢٤ : مَنْ تَصَدَّقَ فِي الشِّرْكِ ثُمَّ أَسْلَمَ ٢٤ - كتاب الزكاة جس نے شرک ( کی حالت ) میں صدقہ کیا اور پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا ہو ١٤٣٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۴۳۶ عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيّ بیان کیا، کہا: ) ہشام نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے عَنْ عُرْوَةَ عَنْ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ کہا ) معمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت حکیم بن حزام أَشْيَاءَ كُنْتُ أَتَحَدَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ رضى اللہ عنہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو وہ باتیں معلوم ہی ہیں جن مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ وَمِنْ صِلَةِ رَحِمٍ کے ذریعہ سے میں جاہلیت میں گناہ کا ازالہ کیا کرتا فَهَلْ فِيْهَا مِنْ أَجْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى تھا۔یعنی صدقہ دینا یا غلام آزاد کرنا یا صلہ رحمی کرنا۔کیا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا ان میں بھی کوئی ثواب ہو گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سَلَفَ مِنْ خَيْرٍ۔اطرافه ۲۲۲۰، ۲۵۳۸، ۵۹۹۲ تشریح: فرمایا: تم اسلام میں انہی نیکیوں کی وجہ سے تو داخل ہوئے ہو جو پہلے ہوئی تھیں۔مَنْ تَصَدَّقَ فِى الشَّرُكِ ثُمَّ أَسْلَمَ: اس باب کے مفہوم کی مزید وضاحت کے لئے کتاب الایمان باب ۳۱ حسن اسلام المرء بھی دیکھئے۔صدقات کے طفیل نجات کی ایک صورت وہ بھی ہے جس کا ذکر روایت نمبر ۱۴۳۵ میں کیا گیا ہے۔بَاب ٢٥ : أَجْرُ الْحَادِمِ إِذَا تَصَدَّقَ بِأَمْرِ صَاحِبِهِ غَيْرَ مُفْسِدِ خادم کو ثو اب اگر وہ اپنے آقا کے حکم سے صدقہ کرے تلف کرنے والا نہ ہو ١٤٣٧: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۱۴۳۷ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے وَائِلٍ عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ ابووائل سے، ابو وائل نے مسروق سے، مسروق نے