صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 61 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 61

صحيح البخاری جلد۳ 41 ٢٤ - كتاب الزكاة یہود و نصاریٰ ہیں نہ کہ مسلمان ؛ جو کہ صالح اور پابند احکام الہی ہیں۔(اس تعلق میں کتاب الزکوۃ باب یہ بھی دیکھئے۔) حضرت معاویہ کی شکایت پر حضرت عثمان نے حضرت ابوذر کو وہاں سے بلا لیا۔اس ضمن میں کتاب العلم باب املا حظہ ہو۔اس واقعہ میں حضرت ابوذر کی ایمانی جرات قابل قدر ہے لیکن ان کا یہ کہنا درست نہ تھا۔خصوصاً اس دور کے حالات کے ساتھ سازگار نہیں تھا جس میں نو جوان طبقہ بے کاری کی وجہ سے بے سرمایہ اور اُن کی حرص و آز اور تمنائیں سر بفلک تھیں اور اس کے ساتھ ہی وہ بے راور و اور سرکش بھی تھا۔ایسے نازک حالات میں اسلامی احکام میں سے ایک حکم پر زور دینا اور باقی احکام کو نظر انداز کرنا فتنے کی آگ کو بھڑ کانے کا موجب ہو سکتا تھا۔چنانچہ عبد اللہ بن سبا نے اسی صورتِ حال سے ناجائز فائدہ اُٹھایا۔جس کے نتیجہ میں وہ گشت و خون ہوا، جس نے اسلامی تاریخ کو داغ دار کر دیا۔دروازے کے ٹوٹنے کے متعلق بیان کی گئی اس پیشگوئی کا مطالعہ کرنے والوں کے ذہنوں میں ایک یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ یہ فتنہ حضرت عثمان کے وقت میں کیوں اُٹھا؟ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس کا بھی تفصیلاً جواب دیا ہے اور اس کے سایہ میں خلفاء راشدین اور صحابہ کرام پر کئے جانے والے اعتراضات کو بھی دور کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں:- بات یہ ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے۔ان نومسلموں میں اکثر حصہ وہی تھا جو عربی زبان سے نا واقف تھا اور اس وجہ سے دین اسلام کا سیکھنا اس کے لیے ویسا آسان نہ تھا جیسا کہ عربوں کے لیے اور جو لوگ عربی جانتے بھی تھے، وہ ایرانیوں اور شامیوں سے میل ملاپ کی وجہ سے صدیوں سے ان گندے خیالات کا شکار رہے تھے جو اس وقت کے تمدن کا لازمی نتیجہ تھے۔علاوہ ازیں ایرانیوں اور مسیحیوں سے جنگوں کی وجہ سے اکثر صحابہ اور ان کے شاگردوں کی تمام طاقتیں دشمن کے حملوں کے رڈ کرنے میں صرف ہورہی تھیں۔اس ایک طرف توجہ کا بیرونی دشمنوں کی طرف مشغول ہونا، دوسری طرف اکثر نو مسلموں کا عربی زبان سے ناواقف ہونا یا نجمی خیالات سے متاثر ہونا دو عظیم الشان سبب تھے اس امر کے کہ اس وقت کے اکثر نو مسلم دین سے کما حقہ واقف نہ ہو سکے۔حضرت عمرؓ کے وقت میں چونکہ جنگوں کا سلسلہ بہت بڑے پیمانے پر جاری تھا اور ہر وقت دشمن کا خطرہ لگا رہتا تھا لوگوں کو دوسری باتوں کے سوچنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا اور پھر دشمن کے بالمقابل پڑے ہوئے ہونے کے باعث طبعا ند ہی جوش بار بار رونما ہوتا تھا جو مذہبی تعلیم کی کمزوری پر پردہ ڈالے رکھتا تھا۔حضرت عثمان کے ابتدائی عہد میں بھی یہی حال رہا۔کچھ جنگیں بھی ہوتی رہیں اور کچھ پچھلا اثر لوگوں کے دلوں میں باقی رہا۔جب کسی قدر امن ہوا اور پچھلے جوش کا اثر بھی کم ہوا تب اس مذہبی کمزوری نے اپنا رنگ دکھایا اور دشمنان اسلام نے بھی اس موقع کو غنیمت سمجھا اور شرارت پر آمادہ ہو گئے۔غرض یہ فتنہ حضرت عثمان کے کسی عمل کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یہ حالات کسی خلیفہ کے وقت میں بھی پیدا ہو جاتے ، فتنہ نمودار ہو جاتا۔اور حضرت عثمان کا صرف اس قدر قصور ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔میں حیران ہوں کہ۔کس طرح بعض لوگ ان فسادات کو حضرت عثمان کی کسی کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔حالانکہ حضرت عمر جن کو حضرت عثمان کی خلافت کا خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا، انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں اس فساد کے پیج کو معلوم کر اسلام میں اختلافات کا آغاز - انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۱۹۹،۱۹۸) لیا تھا۔۔۔۔