صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 60
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۰ ٢٤ - كتاب الزكاة تیار ہو گئے۔ مگر اس قدر تعداد نو مسلموں کی بڑھ گئی کہ ان کی تعلیم کا کوئی ایسا انتظام نہ ہو سکا جو طمانیت بخش ہوتا۔ ۔۔۔۔۔ جب کوئی فتنہ پیدا ہونا ہوتا ہے تو اس کے اسباب بھی غیر معمولی طور پر جمع ہونے لگتے ہیں۔ ادھر تو بعض حاسد طبائع میں صحابہ کے خلاف جوش پیدا ہونا شروع ہوا۔ اُدھر وہ اسلامی جوش جو ابتداءا ہر ایک مذہب تبدیل کرنے والے کے دل میں ہوتا ہے، ان نو مسلموں کے دلوں سے کم ہونے لگا۔۔۔۔ اسلام کے قبول کرتے ہی انہوں نے خیال کر لیا تھا کہ وہ سب کچھ سیکھ گئے ہیں۔ جوش اسلام کے کم ہوتے ہی وہ تصرف جو اُن کے دلوں پر اسلام کو تھا ؟ کم ہو گیا۔ اور وہ پھر ان معاصی میں خوشی محسوس کرنے لگے جس میں وہ اسلام لانے سے پہلے مبتلاء تھے۔ ان کے جرائم پر اُن کو سزا ملی تو بجائے اصلاح کے سزا دینے والوں کی تخریب کرنے کے درپے ہوئے اور آخر اتحاد اسلامی میں ایک بہت بڑا رخنہ پیدا کرنے کا موجب ثابت ہوئے ۔“ تفصیل کے لیے دیکھئے اسلام میں اختلافات کا آغاز - انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۲۵۸، ۲۶۳) سو اُس زمانہ میں بیکار اور کاہل نوجوانوں کی کثرت سے دولتمند طبقے اور فقیر طبقے کی بنیاد قائم ہوئی، جس سے مسلمانوں میں فتنہ شروع ہوا۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی صحابہ صحابہ میں سے ایک نہایت نیک اور متقی صحابی تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان نصائح کو سن کر کہ دنیا سے مومن کو علیحدہ رہنا چاہیے، یہ اپنے مذاق کے مطابق مال جمع کرنے کو نا جائز سمجھتے تھے اور دولت سے نفرت کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی سمجھاتے تھے کہ مال نہیں جمع کرنا کرنا ہے چاہیے۔ ان کا مزید ذکر کرتے مرتے : ہوئے حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ اس موقع پر عبداللہ بن سبا ایک یہودی جو اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی دیکھ کر اس غرض سے مسلمان ہوا تھا کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ ڈلوائے اور س زمانہ کے فتنے اسی مفسد انسان کے ارد گرد گھومتے ہیں ) نے بھی حضرت ابوذر غفاری کی اس ط اس طبیعت سے فائدہ اُٹھایا۔ شام میں سے گذرتے ہوئے اُس نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ دیکھئے کیا غضب ہو رہا ہے۔ معاویہ بیت المال کے اموال کو اللہ کا مال کہتا ہے۔ حالانکہ بیت المال کی کیا شرط ہے ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔ پھر وہ خاص طور پر اس مال کو مال اللہ کیوں کہتا ہے ۔ کہتا ہے۔ حضرت ابوذر تو آگے ہی اس تلقین میں لگے رہتے تھے کہ امراء کو چاہیے کہ سب مال غرباء میں تقسیم کردیں کیونکہ مومن کے لیے آرام کی جگہ اگلا جہان ہی ہے اور اس شخص کی شرارت اور نیت سے آپ کو بالکل واقفیت نہ تھی۔ بس آپ اس کے دھوکہ میں آگئے اور خیال کیا کہ واقعہ میں بیت المال کے اموال کو مال اللہ کہنا درست نہیں ۔ لیکن حضرت ابوذر کا یہ کہنا درست نہ تھا۔ (ما خود از اسلام میں اختلافات کا آغاز - انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۲۰۳ تا ۲۰۷) عبداللہ بن سبانے نے حجاز ، شام ، عراق اور مصر کے شہروں میں چکر لگائے اور لوگوں کے اندر حضرت عثمان اور آپ کے امراء اور سپہ سالاروں کی عیش و عشرت اور دنیا طلبی کے متعلق انتہائی غلط اور بے بنیاد اعتراضات کر کے ان کے خلاف شدید جذبات نفرت پیدا کر دیے۔ حضرت ابوذر غفاری اس یہودی کی باتوں سے یہاں تک متاثر ہوئے کہ حضرت معاویہ کوان کی وجہ سے دمشق میں فتنہ پیدا ہونے کا خوف ہو گیا۔ انہوں نے آیت وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ (التوبة: ۳۴) (یعنی جو لوگ سونا اور چاندی ذخیرہ کرتے ہیں) کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمان سونا چاندی جمع کرنے کے پیچھے پڑ گئے ہیں، اس آیت کی بناء پر اُن کو نار جہنم کی وعید - نار جہنم کی وعید سے ڈرایا۔ امیر معاویہؓ نے کہا کہ اس کے مصداق تو