صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 59 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 59

صحيح البخاری جلد۳ ۵۹ ٢٤ - كتاب الزكاة الْبَابُ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ قَالَ فَسَأَلَهُ پھر کبھی بھی بند نہ ہوگا۔کہتے تھے : میں نے کہا: ہاں۔فَقَالَ: عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا (ابودائل نے) کہا: ہم تجھیجے کہ حضرت حذیفہ سے فَعَلِمَ عُمَرُ مَنْ تَعْنِي قَالَ نَعَمْ كَمَا أَنَّ پوچھیں کہ وہ دروازہ کون ہے؟ اس لئے ہم نے دُوْنَ غَدٍ لَيْلَةً وَذَلِكَ أَنِّي حَدَّثْتُهُ مسروق سے کہا: تم ان سے پوچھو۔ابووائل کہتے تھے: چنانچہ مسروق نے اُن سے پوچھا۔انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ہم نے حَدِيْنًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيْطِ۔66 ☆ حضرت حذیفہ سے پوچھا: کیا حضرت عمر جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مراد کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔اسی طرح جانتے تھے جس طرح کل سے پہلے آج کی رات اور یہ اس لئے کہ میں نے ان سے ایسی حدیث بیان کی جو قطعا غلط نہ تھی۔اطرافه ،۵۲٥، ۱۸۹۵ ، ٣٥٨٦، ٧٠٩٦۔الصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ: حضرت حذیفہ کی یہی روایت کتاب مواقیت الصلوۃ باب نمبرہ میں دیکھئے۔دعا اور صدقہ مصیبت کو ٹال دیتے ہیں۔بسا اوقات تجر بہ میں آتا ہے کہ منذ رخواب دیکھی گئی اور اس کے بعد مصیبت کے آثار خواب کے مطابق ظاہر ہونے شروع ہوئے۔صدقہ کرنے اور دعاؤں پر زور دینے سے مصیبت یکا یک رُک گئی اور ایسے طور سے وہ رکتی ہے کہ خود انسان کا دل شہادت دیتا ہے کہ اس کا رُکنا خارق عادت ہے نہ امرا اتفاقی۔حضرت حذیفہ نے جس فتنہ کا پہلے ذکر کیا ہے اس کا سبب بھی بسا اوقات مال ہی ہوتا ہے اور یہ فتنہ انفرادی نوعیت کا ہے۔مگر حضرت عمر کی نظر میں وہ خطرناک فتنہ تھا جس میں عرب قوم گر فتار بلا ہوئی اور یہ وہی فتنہ ہے جس کا ظہور حضرت عمر کی شہادت کے وقت ہو کر حضرت عثمان کی خلافت کے ایام میں اور پھر اس کے بعد نہایت ہیبت ناک صورت اختیار کرتا چلا گیا۔اس کا ایک سبب مالی حسد تھا۔قوم میں بغاوت کا ایک بڑا سبب اقتصادی بدحالی ہے۔صدقات جس طرح افراد کی اصلاح نفس اور بہود کا موجب ہیں، اُسی طرح قوم میں اقتصادی نشیب و فراز کو برابر کرنے کا موجب بھی۔اس طرح گویا وہ فتنہ کی بندش کا سبب بن کر اُن کی کمزوری کا کفارہ بنتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس فتنہ کا اور اس کے اسباب کا مفصل ذکر فرمایا ہے۔آپ حضرت عثمان کے زمانہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- امیران و شام اور مصر کی فتوحات کے بعد اسلام اور دیگر مذاہب کے میل و ملاپ سے جو فتوحات روحانی اسلام کو حاصل ہو ئیں ، وہی اس کے انتظام سیاسی کے اختلال کا باعث ہو گئیں۔کروڑوں کروڑ آدمی اسلام کے اندر داخل ہوئے اور اس کی شاندار تعلیم کو دیکھ کر ایسے فدائی ہوئے کہ اس کے لیے جانیں دینے کے لیے کا دروازہ توڑنے سے مراد حضرت عمر کا شہید کیا جاتا ہے۔(دیکھئے تشریح کتاب مواقيت الصلاة، باب ۴)