صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 58
صحيح البخاری جلد۳ عَن حُذَيْفَةَ رضي ۵۸ باب ۲۳ : الصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ صدقہ گناہ کا کفارہ ہوتا ہے ٢٤ - كتاب الزكاة ١٤٣٥ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۱۴۳۵ نیہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) جریر نے الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلِ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ سے ، ابو وائل نے حضرت حذیفہ بن یمان ) رضی اللہ عنہ الله عَنْهُ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيْثَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب ) رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم میں سے کون فتنہ سے متعلق رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفِتْنَةِ قَالَ قُلْتُ أَنَا أَحْفَظُهُ كَمَا قَالَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یادرکھتا ہے؟ کہتے رَضِيَ قَالَ إِنَّكَ عَلَيْهِ لَجَرِيْءٌ فَكَيْفَ قَالَ قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ تھے : میں نے کہا میں اسے اسی طرح یا د رکھتا ہوں؛ جس طرح کہ آپ نے فرمایا تھا۔حضرت عمر نے کہا: تم تو اس امر میں بہت دلیر ہو۔اچھا آپ نے کس طرح فرمایا ؟ میں نے کہا: آدمی کے لئے فتنہ اس کی بیوی اور اس کے وَالْمَعْرُوْفُ۔قَالَ سُلَيْمَانُ قَدْ كَانَ بچے اور اس کے پڑوسی کی وجہ۔بچے اور اس کے پڑوسی کی وجہ سے ہوتا ہے؛ جسے نماز، يَقُولُ الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ صدقہ اور نیکی متادیتے ہیں۔سلیمان ( بن مہران اعمش ) بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ کہتے تھے: نماز، صدقہ اور بھلی بات کا حکم کرنا اور بری لَيْسَ هَذِهِ أُرِيدُ وَلَكِنِّي أُرِيدُ الَّتِي بات سے روکا یہ فتنہ کو مٹا دیتا ہے۔) حضرت عمرؓ نے تَمُوْجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ قَالَ قُلْتُ لَيْسَ کہا: میری مراد یہ نہیں۔بلکہ میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی طرح موجزن ہوگا۔حضرت حذیفہ کہتے تھے: میں نے کہا امیر المومنین ! آپ کو اس کا کوئی خطرہ نہیں۔آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔عَلَيْكَ بِهَا يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَأْسٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابٌ مُغْلَقٌ قَالَ فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَوْ يُفْتَحُ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ يُكْسَرُ حضرت عمرؓ نے پوچھا: پھر کیا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا قَالَ فَإِنَّهُ إِذَا كُسِرَ لَمْ يُغْلَقُ أَبَدًا قَالَ کھولا جائے گا؟ کہتے تھے میں نے کہا: کھولا نہیں جائے قُلْتُ أَجَلْ قَالَ فَهِبْنَا أَنْ نَّسْأَلَهُ مَنِ تو ڑا جائے گا۔حضرت عمر نے کہا: اگر تو ڑا جائے گا تو