صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 714 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 714

صحيح البخاری جلد ۳ ما ۳۳- كتاب الاعتكاف والا اپنے متعلق شبہ کا ازالہ کیوں نہ کرے؟ آیا یہ خصوصیت اس لئے ہے کہ مختلف کلیہ منقطع الی اللہ ہے۔ ایسی صورت میں اُسے تو دنیا کی چہ میگوئیوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اس تعلق میں بعض متصوفین نے کہا ہے کہ اس کا ذکر اس لئے خصوصیت سے کیا گیا ہے کہ مختلف جو کہ اپنے خالق کی مناجات میں مشغول ہے، اُسے یہ شایاں نہیں کہ مخلوق خدا کو نظر انداز کرے۔ ہو سکتا ہے کہ متصوفین کی یہ رائے درست ہو یا امام بخاری کے علم میں کسی فقیہ کا یہ قول بھی ہو کہ مختلف کو پوری خاموشی سے اپنا اعتکاف پورا کرنا چاہیے اور اُس کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسروں سے بات کرے۔ بعض فقہاء کے نزدیک بحالت اعتکاف بغیر ضرورت کے بات کرنا منع ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک مذکورہ بالا واقعہ کافی نہیں کہ اس سے گفتگو یا عدم گفتگو کے بارے میں کوئی فتوی اثبات یا فی کے بارے میں مستنبط کیا جا سکے۔ بَاب ۱۳ : مَنْ خَرَجَ مِنِ اعْتِكَافِهِ عِنْدَ الصُّبْحِ جو صبح کے وقت اپنے اعتکاف سے نکلے ٢٠٤٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ۲۰۴۰ عبدالرحمن بن بشر نے ہم سے بیان کیا کہ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ سے، انہوں نے سلیمان احول سے، جو ابن ابی نجیح کے ماموں تھے۔ سلیمان نے ابو سلمہ سے، انہوں نے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ۔ ح حضرت ابوسعید سے روایت کی۔ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو نیز سفیان نے کہا: اور محمد بن عمرو نے ہم سے بیان عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ کیا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت وَأَظُنُّ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَبِيْدٍ حَدَّثَنَا عَنْ أَبِي ابوسعید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ که ( عبد الله ) بن ابی لبید نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ قَالَ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فَلَمَّا كَانَ ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ صَيْحَةَ عِشْرِيْنَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا فَأَتَانَا علیہ وسلم کے ساتھ ہم درمیانے عشرے میں مختلف رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ہوئے ۔ جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو ہم نے اپنا مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ سامان اٹھایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس